Tuesday, April 2, 2013

استانی جی۔


دور دراز کے علاقوں سے متعلق لوگوں کو اظہار ِ زات کے مواقع کم کم میسر آتے ہیں۔ وہ اپنی فطرت میں موجود   رجحانات سے واقفیت حاصل کر   بھی لیں تو اس بکروال جیسے رہتے ہیں ، جسے وادی کے دامن میں کنواں تو ملتا ہے۔ لیکن پانی کے حصول کی سبیل نہیں ہوتی تاوقتیکہ کوئی آکر  اسے طریقہ نہ سمجھا دے۔
  اس دن  باڑے  میں بند بکریوں کی طرح شور مچاتے طلباء کو اچانک چپ لگ گئی تھی۔ وہ سارے  لڑکے جو کچھ دیر پہلے تک کلاس مانیٹر  کی ناک میں دم کئے ہوئے تھے۔اب  میسنی شکلیں بنائے کھڑے تھے۔ ہاشمی صاحب کی اچانک آمد نے ساری جماعت کو چپ لگا دی تھی۔ لیکن ہاشمی صاحب نے برخلافِ عادت کسی کو ڈانٹنے یا غصہ ظاہر کرنے کے، مسکراتے ہوئے سلام کیا ۔ اور اپنی دائیں طرف کھڑی مہ پارہ                  کا تعارف کرانے لگے۔ قصہ کچھ یوں تھا کہ ہماری اردو کی استانی محترمہ "پُر امید" ہونے کی وجہ سے طویل رخصت پر چلی گئ تھیں۔ اور ہماری  نئے ٹیچر کے نہ آنے کی تمام تر دلی دعائوں  اور پرخلوص ، معصوم تمنائوں کے باوجود سکول والوں کو ایک عدد استانی میسر آ ہی گئی تھیں۔ اور اب ہاشمی صاحب اچانک نازل ہو کر ہمارے رنگ میں بھنگ ڈالتے ہوئے   ۔ اس "لڑکی" کا تعارف بحثیت نئی استانی کروا رہے تھے۔  جسے دیکھ کر  میرا  دل  اور   دماغ اس کشمکش میں تھے کہ اسے استانی تسلیم کر لیا جائے؟ ۔ ہاشمی صاحب  چند ایک تعارفی جملے کہہ کر  ، نظم و ضبط کی پابندی اور بادب رہنے کی تاکید کر کے اس "لڑکی نما استانی، یا استانی نما لڑکی"  سے اجازت لیتے ہوئے باہر نکل گئے۔ اور ہماری جان میں جان آئی کہ اس قدر شور شرابے کے باوجود آج  جان چھوٹی۔ ان کے قدموں کی آہٹ ختم ہوتے ہی لڑکوں کا  شور وہیں سے شروع ہوا جہاں ان کی آمد پر منقطع ہوا تھا۔ کسی منچلے نے سائیں احسن  کے پیچھے قلم کی نوک چھبو دی۔جو پہلی رو کی پہلی کرسی پر بیٹھنے کی تیاری میں تھا۔ سائیں غصے سے پیچھے مڑ کر بڑبڑانے لگا۔ نئی نویلی خوبصورت لڑکی جسے ہاشمی صاحب ہماری استانی بتا کر گئے تھے اچانک آگے بڑھی اور اپنے ہاتھ میں پکڑی کتاب کا  سارا علم سائیں احسن کے بھیجے میں گھسیڑنے کی کوشش کی۔ "آپ لوگ نویں جماعت کے طالبعلم ہو، ایک بہترین اور نامور ادارے  میں پڑھنے والے اتنے بےادب اور  غیر سنجیدگی کا مطاہرہ کرتے ہوں گے۔ مجھے معلوم نہ تھا۔" ان محترمہ نے غصے کو قابو میں کرنے کی کوشش کرتے ہوئے   دو چار بے نطق سنائیں۔ اور اپنا دوپٹہ،  جو سائیں کو کتابی تعارف کراتے ہوئے لڑھک کر کندھے پر آ گر تھا، دوبارہ سر پر سلیقے سے رکھتے ہوئے، لڑکے لڑکیوں کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ استانی صاحبہ کی اس جارحانہ پیشقدمی  نے ہمارے دل میں ان کا وہ تاثر جو پچھلے آٹھ ،دس منٹ  میں ایک   "پری وش" کا       سا ابھر رہا تھا، پھر سے ایک "استانی"کا بنا دیا۔  "ہنہ! نویں آئی اے سوہنی تے چھا گئی اے" شادے نے بیٹھتے ہوئے میرے کان میں سرگوشی کی۔ "اللہ ہدایت دے گا" میں نے جوابا کہا۔ "اور اگر ہدایت نہ ملی تو!" شادے نے کتاب منہ کے آگے کر کے بتیسی نکالتے ہوئے پوچھا۔ "تو بدعا کریں گے   کوئی نمبردار ہدایت اللہ مل جائے اسے" میں نے ہنسی دباتے ہوئے کہا۔ شادے کا جوابی قہقہہ کچھ زیادہ آواز دار ہو گیا۔ استانی نے بلوری آنکھوں سے ہمیں گھورا لیکن اب تک محترمہ کا غصہ ٹھنڈا ہو چلا تھا۔۔ شاید انہیں احساس ہوا کہ   کلاس والوں کو پہلا تاثر اچھا نہیں ملا۔  اب کی بار وہ دوبارہ گویا ہوئیں تو نستعلیق اردو اور شستہ لہجے  نے  "تپیدہ دلوں " پر  قدرے پھوار  چھڑکی۔ سائیں کو پھر مخاطب کر کے فرمایا "ماشاء اللہ آپ کا قد مجھ سے دو ہاتھ اونچا ہو رہا۔  کلاس میں اساتذہ کی موجودگی کا کچھ تو خیال رکھنا چاہئے۔ اور پھر "جماعت کے شرفاء کے سرخیل سائیں احسن " کو  کسی وضاحت کا موقع دئیے بغیر  ،کتابیں کھولنے کا حکم دیا۔  دو چار لڑکوں سے  با آواز بلند سبق  پڑھوایا اور   "اردو  بھی صحیح طرح نہیں پڑھ سکتے" کہہ کر سبق کی مشق کی جانب متوجہ ہوئیں۔ وہ سوالات کے جوابات کی توضیح و تشریح فرما رہی تھیں۔  چند ایک لڑکوں کو چھوڑ کر زیادہ تر  کا دھیان لکھنے کی بجھائے سننےکی طرف، اور ان میں سے بھی کچھ کا فقط   دیکھنے  تک  تھا۔   ہم جماعت لڑکیوں کے  چہروں کے تاثرات لڑکوں کی  "شوخ نگاہی" پر پھولے پھولے سے تھے۔ شاید انہیں اتنی  خوبصورت اور نوجوان  استانی  دل کو نہیں لگی تھی، یا پھر اتنی خوبرو  اتالیقہ کی جانب لڑکوں کا یوں ٹکٹکی باندھے دیکھنا، ان سے ہضمم نہیں ہو پا رہا تھا۔  استانی صاحبہ کرسی کے کاندھوں پر کتاب رکھے، قدرے آگے کی جانب جھکائے، کمر ہلکی سی خمیدہ  کیے   مترنم آواز میں کچھ لکھوائے جا رہی تھیں۔ درمیانہ قد ، جس کو میعاری بنانے کے لئے ہلکی ایڑھی والی سینڈل نما  چپل پہن رکھی تھی۔ لانبھی گھنیری زلفیں  جو باوجود  دوپٹہ بڑا ہونے کے، اپنی شان کا پتا دے رہی تھیں۔  ہلکے ہرے رنگ کے سوتی  لباس پر سنہری رنگت میں  ہلکی کامدار کڑھائی،   استانی جی کی گوری رنگت  پر بہت جچ رہی تھی۔   چھوٹی ،بولتی ہوئی، بلوری آنکھیں جن کے کنارے بھیگے سے محسوس ہوتے، یا پھر شاید ذہانت کی چمک تھی۔ قدرے گولائی لئے رخساروں کے اختتام پر معصومانہ سی ، لمبوتری ٹھوڑی جو مسکراتے ہوئے کچھ چوڑی ہو جاتی۔ کشادہ پیشانی، "مہ جبیں" کا  سچا ترجمہ تھی۔  "لب یاقوت اور پنکھڑی گلاب کی سی ہے۔"  میرے اور شادے کے منہ سے اکٹھا ہی ادا ہوا تھا۔
اور یہ سب مشاہدہ  پہلے دن پہلی کلاس میں ہی نہیں ہوا تھا۔
پہلے دن تو کلاس  میں  پنجاب یونیورسٹی  سے ، گولڈ میڈلسٹ  ایم اے اردو  اور حالیہ ڈکٹریٹ  میں داخلے کا سوچتی اس حسینہ کے ہاتھوں کی کپپاہٹ اور لبوں کی لرزش محسوس کی جا سکتی تھی۔  اور  شاید اسی جھجک، ہچکچاہٹ میں  وقت ختم ہونے سے تھوڑی دیر قبل جب "حکیم لقمان" کے متعلق استانی صاحبہ نے  کچھ غلطی کی ،تو عادتا مجبور،  خاموش نہ رہا گیامیں نے  استانی جی کو لقمہ دے دیا۔ اور عرض کیا" میڈم !یوں نہیں یوں۔"  استانی جی کو شاید خوشگوار حیرت ہوئی کہ پینتالیس منٹ میں کسی نے انہیں  بھی مخاطب کیا ہے۔ بہرحال  انہوں نے ایک دو منطقی دلائل سننے کے بعد تحقیق کا کہہ کر جان چھڑا لی۔
دوسرے دن استانی جی  خوشگوار موڈ کے ساتھ جماعت میں  جلوہ افروز ہوئیں۔  پہلے طلباء و طالبات کا فردا فردا تعارف لیا، ہنستے مسکراتے  کچھ فقرے اچھالے، کچھ   لطیف اور پرمزاح  انداز میں اردو کی طرف توجہ دینے کا کہا۔ ان کے اس انداز کو دیکھ کر تو پہلے دن کا شکار سائیں احسن بھی بچھا جا رہا تھا۔ لڑکیوں نے دوستانہ برتائو دیکھ کر جلن، کُڑھن  میں کچھ کمی کی۔  پھر کتاب پکڑی اور نیا سبق سمجھانے سے پہلے میری طرف اشارہ کر کے فرمایا "عمران آپ کھڑے ہوئیے۔" میں نے سوچا ۔   "یاداشت تو بڑی تیز ہے۔ اک بار میں نام رٹ لیا۔استانی صاحبہ  نے کل کے ٹوکنے کا برا تو نہیں منا لیا۔"
"جی میڈم" کہہ کر کھڑا ہوا تو  ایک  پرکشش مسکراہٹ اچھال کر بولیں۔ "کل آپ نے بالکل صحیح کہا تھا۔ حضرت لقمان کا زمانہ حضرت عیسی سے بہت پہلے کا ہے اور وہ نسلا عربی نہیں تھے۔"  پھر دو چار توصیفی کلمات کہے۔۔مجھے اپنی کہی ہوئی بات کے صحیح ہونے کا یقین تو اسی طرح تھا جیسا استانی جی کے حسین ہونے کا۔ لیکن ان کے منہ سے تعریف سن کر "پہلی اور آخری دفعہ شرما گیا۔"  اسی دن  فری پیریڈ میں استانی جی کو "بابے اسلم" کی کینٹین کے پاس دیکھ کر، میں نے اور شادے نے  چائے پکوڑوں کی دعوت دے ڈالی۔ جو خوشدلی سے قبول بھی ہو گئی۔   استانی جی کرسی پر بیٹھیں،  بائیں ہاتھ میں چائے کا کپ تھامے، میز پر پڑی پکوڑوں کی پلیٹ میں سے دائیں ہاتھ کی چٹکی سے چھوٹا سا پکوڑے کا ٹکڑا  اٹھاتیں، جو شاید گولی سے بڑا نہ ہو گا اور   نجانے کیسے بند لبوں سے منہ میں ڈال لیتی۔ لیکن چائے کی چسکی لیتے ہوئے تمام تر تکلفات پکوڑے کی پلیٹ میں رکھتے ہوئے "سڑوک سڑوک" کی آواز نکالی اور بولیں چائے تو آواز کے بغیر پینا  عذاب ہوتا ہے۔  میں اور شادا پھولوں کی کیاری کے کنارے بیٹھے۔ چائے کی چسکیاں لے رہے تھے۔ جی میں آئی کہ اس خوبصورت چائے پکوڑے کی دعوت  کا استانی جی  کی طرح ہی  باآواز بلند لطف لیا جائے۔ لیکن بےتکلف ہونے کے باوجود احترام مانع رہا۔
کلاس میں ، اور ٹیوشن پر بھی  ہمارا موضوع سخن استانی جی ہی رہیں۔ ہم ان کی  عمر کے اندازے لگاتے رہے۔ اور اس بات پر متفق ہوئے کہ زیادہ سے زیادہ عمر ِِِِ ماہ  ، بائیس، تئیس   سال ہی ہو گی۔ جو دوسرے دن استفسار کرنے پر پانچ سال زیادہ  نکلی۔ استانی جی نے عام خواتین کی طرح عمر کے سوال   پر جھینپنے کے بجائے آرام سے بتلایا کہ اٹھائیس سال اور چار مہینے۔ ہم نے عرض کیا کہ ہمارا  خیال   تئیس تک کا تھا۔ تو ہنس کر کہا آپ کے پرنسپل صاحب تو مجھے  بیس کا بنانے پر تُلے ہوئے تھے۔ 
پرنسپل صاحب   کی خوش لباسی اور خوش اخلاقی بھی دوسرے مرد اساتذہ کی  طرح استانی جی کی آمد سے نکھر سی گئی تھی۔ کلاسوں کے "رائونڈ" میں اضافہ ہو گیا تھا۔ اور تفریح کے دوران وہ بھی اپنے دفتر کے بجائے سٹاف روم میں پائے جانے لگے۔
 ادھر کمرہ جماعت میں آمد ہوئی اور سبق  کی پڑھائی شروع ہوئی ادھر پرنسپل صاحب ٹہلتے ہوئے کلاس میں داخل ہوتے اور پچھلی نشستوں میں سے کوئی خالی کرسی پکڑ کر ایک طرف کو بیٹھ جاتے۔ پندرہ بیس منٹ تک  طریقہ تدریس کا مشاہدہ ہوتا۔ اور پھر ایک آدھ نصیحت فرما کر باہر نکل جاتے۔ اس دوران استانی جی کی حالت  دیکھنے لائق ہوتی ان کی آواز کی لرزش، اور بار بار گلا کھنکار کر اپنی خود اعتمادی بحال کرنا صاف  نظر آتا۔
  پرنسپل کی  کلاس میں موجودگی ہمیں بھی ایک آنکھ نہ بھاتی۔  ہم نے  اپنی جماعت کی نگران ٹیچر سے کہا کہ "ہاشمی صاحب" کا نام بھی حاضری رجسٹر میں درج کر لیا جائے۔  وہ ہمارے شکایتی انداز کو سمجھ گئیں۔ بات سٹاف روم سے  چپڑاسی کے کانوں میں  اور اس کے زریعے  پرنسپل تک جا پہنچی۔ لیکن ان کا رویہ وہی کا وہی تھا۔ پانچویں دن جب استانی جی ٹیسٹ لینے کے لئے سوال لکھوا رہی تھیں تو شادے نے ڈھیٹ پنے سے بتیسی نکالتے  استفہامیہ لہجے میں کہا۔" ہاشمی صاحب بھی ٹیسٹ دیں گے!" ہاشمی صاحب نے ٹیسٹ تو نہ دیا لیکن بات دل پر لے گئے اور اس کے بعد کمرہ جماعت میں استانی جی کی موجودگی میں داخل نہ ہوئے۔ بعد میں شادے کو اس کی خوداعتمادی اور بذلہ سنجی پر خصوصی شاباش ملی، ساتھ  چائے پکوڑوں کی دعوت بھی۔

استانی جی کی آمد نے بہت سوں کو "ریگولر" کر دیا۔ وہ اساتذہ جو گیارہ بجے سے قبل سکول آنے کے روادار   نہ تھے، صبح کی اسمبلی میں پائے جاتے۔ جنہیں شعر وادب سے چِڑ تھی وہ بھی میر و غالب کے متعلق زوق و شوق سے گفتگو فرماتے نظر آتے۔  ہفتے  بعد شیو بنانے والوں کے رخسار   ہر صبح استرے کی تُندی سے چِھلے محسوس ہوتے۔  اور وہ جلاد صفت جن کا ناشتہ دوچار کو اپنی گرج دار آواز میں لتاڑے بغیر ہضم نہ ہوتا تھااب  بردبار بنے  پھر رہے تھے۔ ایک استاد جی کے خلاف شادے کواستانی جی کے کان بھرنے پڑے۔ شادے نے دونوں کو ہنستے مسکراتے دیکھا تو کڑھ کر رہ گیا۔ دوسرے دن جب تک استاد جی کی سیمابی طبیعت اور رنگین مزاجی کے قصے مرچ مسالہ لگا کر  استانی جی کے گوش گزار نہ کر دئیے۔ اسے چین نہ  آیا۔ اس چغلی کا فائدہ یہ ہوا کہ  استانی جی نے  پھر کسی "میل کولیگ" کی چائے کی دعوت تک قبول نہ کی۔ لیکن ہم بھی اس خوف میں مبتلا ہو گئے کہ کان کی کچی ہیں۔ کسی نے ہمارے خلاف  کچھ کہہ دیا تو!
آٹھ دس روز  خوب پڑھائی اور  لگاتار نوٹس لکھوائی نے ہماری طبعیت میں اکتاہٹ پیدا کر دی تھی۔ لیکن اس دن  استانی جی نے کوئی شعر پڑھا۔ اور اس کے جواب میں شادے نے کوئی مزاحیہ شعر پھڑکا دیا۔  کمرہ جماعت کا ماحول زعفرانی ہو گیا۔ اور ہمیں موقع میسر آگیا۔ اپنے ہنر آزمانے کا۔ ایک قطعہ میری طرف سے ہوا۔ جوابا استانی جی نے کچھ ارشاد فرمایا۔ اور بیت بازی کی محفل جم گئی۔
اس کے بعد تو ہر روز کا معمول بن گیا۔ پینتالیس منٹ میں سے بیس منٹ پڑھائی اور پچیس منٹ کی شعر و شاعری۔ باقی ہم جماعت بھی کچھ نہ کچھ سناتے۔ لیکن میری اور شادے کی شوخیاں عروج پر ہوتیں۔ شاعری کی جتنی کتابیں میسر آ سکتی تھیں، جتنے اشعار یاد کئے جا سکتے تھے ، ڈایجسٹوں  میں سے جس قدر اشعار ڈائیری پر لکھے جا سکے، ہم نے خوشدلی سے   یہ کام سر انجام دیا۔
 استانی جی کو نثر میں ایسی دلچسپی نہ تھی ۔ شاعری کا زوق اچھا تھا۔ لیکن  پروین شاکر اور نوشی گیلانی کے علاوہ کچھ اور کم کم ہی سنا پاتیں۔ اردو ادب    میں گولڈ میڈل شاید زہانت اور یاداشت کی بنیاد پر ہی حاصل کر پائی تھیں۔ ورنہ کلاسیکل شاعری انہیں ایسی بھی پسند نہ تھی۔ پانچ سات مشہور مصنفین، اور سلیبس میں موجود لکھاریوں کے ناموں کے علاوہ انہیں زیادہ تر  سے استفادہ  کا موقع ہی نہیں ملا تھا۔  آواز اور انداز پرکشش ہونے کی وجہ سے طلباء نے انہیں پسند کر لیا تھا ۔ ورنہ ان کی تشریحات  اور مشقوں کے حل کا منبع بھی وہی "خلاصے اور گائیڈ بک" ہی تھیں جنہیں سال کے شروع میں ہم تجسس کے مارے دو بار پڑھ کر ایک طرف ڈال دیتے تھے۔ تاریخ سے شناسائی فقط نصابی تھی۔   بقول شادے، "خوش شکل، خوش آواز، خوش اطوار ہیں استانی جی، باقی سب ہماری اپنی میڈم  جیسا ہی ہے۔" اور میرا خیال یہ تھا کہ  ہاشمی صاحب نے "گولڈ میڈل" اور  "بولڈ چہرہ" دیکھ کر ہی پڑھانے کا موقع فراہم کیا ہے۔ ہماری مشترکہ رائے یہ تھی کہ  آواز کی وجہ سے کسی ایف ایم چینل کی کامیاب ڈی جے، حسن و جمال کی بنا پر کسی  اچھےبرانڈ کی اشتہاری امبیسڈر بن سکتی ہیں۔ یا پھر انداز و اطوار   میں شائستگی، اور سلیقہ مندی کسی کثیر الملکی ادارے کی "مارکیٹنگ مینیجر" بنوا سکتی ہے۔ لیکن آخر الذکر کے لئے جس خود اعتمادی اور ڈھیٹ پنے کی ضرورت ہوتی ہے وہ استانی جی میں ناپید تھا۔ کالج، یونیورسٹی کی تعلیم   نے شاید ان کی فطری طبیعت میں "چٹکی بھر سندور" جتنا نکھار ہی پیدا کیا ہو گا۔ اگر وہ گائوں کی الہڑ مٹیار ہوتیں  تو  غالب، میر کی بجائے ہیر وارث شاہ، اور سیف الملوک  پڑھ لیتیں۔  سولہ کے بجائے دس جماعتیں پاس ہوتیں تو بھی ان کی  مسکراہٹ ایسی ہی پرکشش ہوتی۔  وہ فطرتا خوبصورت تھیں۔ بغیر بناوٹ کے، بغیر دکھاوے کے، طبعیتا جھجکتی ہوئی، اور شاید شرمائی ہوئی۔   
تین مہینوں میں استانی جی کا دوپٹہ ، شاید ہی تین بار سے زیادہ سِرکا ہو۔ اور جب  بڑا سا  سیاہ چشمہ ناک کے اوپر جماتیں  تو یوں لگتا کوئی ویلڈنگ والا  ٹانکا لگانے کی تیاری کر رہا ہے۔انہیں  خدائی عطا کا اندازہ بخوبی تھا، اور وہ اپنی  رعنائی سے آگاہ تھیں۔ ستائشی نظروں ، اور توصیفی کلمات کی چاہ میں کبھی  ملتفت  بھی ہو جاتی تھیں۔  لیکن اتنا ہی کہ کوئی انہیں بد اخلاق نہ گردانے۔ جن لوگوں کو ان کے دل نے  لکد لگا دی ان کے لئے  پھر مسکرانا بھی گوارا نہ کیا۔    نرسری سے نویں جماعت کے گیارہ سالوں میں ، وہ تین مہینے ایسے تھے جب ہم اپنی فرضا، واجبا ، عادتا     ہفتہ وار تعطیلات کی قربانی دیتے رہے۔
ہمیں شاعری کی لت پڑی۔ سخن فہمی کی کوششیں شروع ہوئیں۔ اساتذہ کو پڑھنے کا شوق پیدا ہوا۔ اور ہماری  ذہنی  پرتوں پر اشعار کی ملمع کاری ہوتی رہی۔ 
 تین مہینے گزرنے ہی تھے۔ سو گزر گئے۔ ہم نے استانی جی سے عرض کی۔ "آپ پرمننٹ    سیٹ کے لئے اپلائی کی جئے۔ ہو جائے گا۔" مسکرا کر فرمایا ۔    " دیکھیں گے پھر کبھی۔" کسی نے انہیں سفارش   کی آفر کی۔ لیکن انہوں نے مسکرا کر شکریہ کہہ دیا۔
  لڑکوں سے باجماعت دعا کرائی۔ " اللہ  جی ہماری  میڈم کو جوڑے کے دو بیٹے اور دے دو۔" لیکن نہ تو ہم ولی تھے نہ ہماری  دعا ٹوٹے دل سے تھی۔ اس لئے ہماری میڈم ایک ہی بچے کو اونی کمبل میں لپیٹے  تین مہینے بعد لوٹ آئیں۔ 
استانی جی  سے اپنی ہم جماعت سَدو کے زریعے سلام دعا  برقرار رہی۔ شادا مجھ سے چوری  کبھی کبھار  سلام دعا کے ساتھ ایک عدد خوبصورت کارڈ کا بھی اضافہ کر دیتا۔   نویں کے سالانہ امتحانات سے ایک آدھ مہینہ قبل دسویں والوں کو الوداعی پارٹی  دینے کا ارادہ بنا۔ اپنی جماعت میں تمام تر غیر زمہ دارانہ ریکارڈ کے باوجود  زمہ داریاں سونپی گئیں۔ باقی لڑکوں سے مشورے، لڑکیوں سے لڑائی کے بعد یہ طے پایا کہ بطور میزبان ہمیں کسی مہمان کو بلانے کا مکمل اختیار حاصل ہے  سو  استانی جی کو دعوت دینے کا فیصلہ ہوا۔ اپنی کلاس ٹیچر کی منت، سماجت کر   کے اجازت بھی لے لی۔۔ اور ایک عدد خوبصورت دعوتی کارڈ  بذریعہ سَدو  روانہ کیا۔ جس کے جواب میں شکریہ اور لازمی شرکت کی خبر موصول ہوئی۔ دعوت والے دن   سارے لڑکوں نے بن ٹھن کے بائو شائو بننے کی  اپنی سی کوشش کی۔ اور لڑکیوں کےسرخی پوڈر    نے بھی ریکارڈ توڑے۔   دس بجے پروگرام شروع ہونا تھا۔ آٹھ بجے پتا چلا کلاس ٹیچر کی ساس صاحبہ وفات پا گئی ہیں ظاہر ان کی تشریف آوری تو ندارد تھی۔ لیکن ان کی غیر موجودگی سے بہت سارے کام اتھل پتھل ہو رہے تھے۔ بھاگم بھاگ میں پتا چلا کہ الوداعی بیان بھی تیار نہیں۔ ہانپتے کانپتے جلدی میں ایک تقریر  سوچی۔ کھانے کا انتظام، برتن، ٹھنڈا، کرسیاں، میز، دماغ میں بس یہی کچھ تھا۔ اور ہماری مہمان خصوصی استانی جی کب کی تشریف لا چکی تھیں ہمیں خبر نہ ہوئی۔ پتا اس وقت چلا جب دسویں کے لڑکوں کو  استانی جی کے ہمراہ تصویریں کنچھواتے دیکھا۔ گلاب کی کیاری کے کنارے نیلے رنگ کے لباس میں  استانی جی تو بہت خوبصورت دکھ رہی تھیں لیکن ساتھ میں کیکر کے پیڑ۔ آگے بڑھ کر سلام دعا  کی، حال احوال پوچھا۔ اور  کسی کے بلانے پر پھر سے کام میں مشغول ہو گیا۔ شادا  بھی بس کھڑے کھڑے ملاقات کر پایا۔  ساری تقریب بخیر و خوبی انجام پائی۔ پروگرام بھی خوب رہا۔ کھانا بھی اچھا ہو گیا۔  لیکن جب تک ہم اپنی زمہ داریوں سے فراغت پاتے،استانی جی جا چکی تھیں۔   ہمارا دل کھٹا ہو گیا تھا۔ میں اور شادا ایک دوسرے سے پوچھ رہے تھے۔   یار ہمیں ملے بغیر ، بتائے بغیر، ہمارے ساتھ تصویر کھنچوائے بغیر۔ لیکن  وہ ہماری زات کے کنویں سے ، اپنا آپ نکالنے کے لئے شاعری کا بوکا ہاتھ میں پکڑا کر گئی تھیں۔یہ اور بات کے وقت کے ساتھ کنواں اپنی ہی مٹی سے اٹتا رہا اور بوکا زنگ آلود ہو کر اب چائوں کائوں کی آوازیں ہی نکالتا ہے۔

10 comments:

  1. فٹ یار
    یعنی اب استانیوں پہ کرشوں والی پوسٹ کا خیال ڈسٹ بن کی نظر کر دیا جائے :ڈ
    بچہ ھوئے اور فطری پونڈ نہ ھوئے، یہ نی ھو سکتا :ڈ

    ReplyDelete
  2. Replies
    1. خؤش آمدید
      پسندیدگی کے لئے شکریہ،۔

      Delete

  3. یرقانی ڈست بن میں نہ پھینکیو، ڈفرستان پر پوسٹیو۔ مستقبل قریب کے کاکوں کے کام آئے گا تیرا تجربہ۔
    :D
    اور بچوں کے بارے


    حجاب اکسیر ہے آوارہ کوئے محبت کو
    میری آتش کو بھڑکاتی ہے تیری دیر پیوندی


    کہ فطرت خود بخود کرتی ہے لالے کی حنا بندی

    ReplyDelete
  4. کیوں دل جلاتے ہو صاحب۔
    ہمیں تو سکول میں پڑھانے کیلئے کیا، کبھی دکھانے کیلئے بھی صنفِ مذکورہ داخل نہیں کی ادارے میں۔
    ویسے نات تو سئی ہے، "مصتکبل" کے کاکے سبق سیکھیں گے اس سے۔

    ReplyDelete
  5. فضل لالا، خوش نصیب ہو جو اس سے بچے رہے ہو :))

    ReplyDelete
  6. یہ خواب کی تفصیل ہے یا اصلی جماعت کی ۔ بہر کیف ۔ دل کے بہلانے کو یہ خیال اچھا ہے

    ReplyDelete
  7. حسرت ان غنچوں پہ جو بن کھلے مرجھا گئے۔
    لیکن تحریر مزیدار تھی۔

    ReplyDelete
  8. یارا پوری فلم نہیں دیکھنی
    امپورٹنٹ سین دکھا دے فارورڈ کر کرکے

    اتنی لمبی پوسٹ ہے

    اسے ناولٹ کہنا چاہیے باقی کل پڑھوں گا انشاء اللہ

    ReplyDelete

Flickr