Thursday, December 1, 2016

ہم بولیں گے!!!



ہمارا ضمیر ضرور جاگے گا، جب حلب کے کسی مکان تلے دبا، اکیلا بچ جانے والا زخموں سے چور بچہ زرا بڑا ہو کر کسی وڈیو میں کسی مغوی کا گلا کٹتا نظر آئے گا۔
ہم لازم آواز اٹھائیں گے جب کبھی بمباری میں تباۃ حال گائوں کی اکیلی بچی کچھ عرصے بعد کسی محاز پر کلاشنکوف پکڑے گولیوں کی بوچھاڑ کرتی دکھے گی۔
ہم بالکل احتجاج کریں گے جب گولیوں کی تڑتڑاھٹ، ٹینکوں کی گڑگڑاہٹ، جہازوں کی پروازوں، گولہ بارود کی بو، دھویں، غبار کے منظر میں ٹوٹی پھوٹی عمارتوں کے بیچ پرورش پانے والا بچہ کل کلاں کو کسی مصروف۔ پر رونق بازار میں پھٹے گا۔ ہم بولیں گے اور ہم ہر صورت بولیں گے جب بے بسی کی پینگوں میں ھلارے لینے والا طفل یتیم کسی کے گلو پر بے حسی سے خنجر چلائے گا۔
ہم چیخیں گے اور ہم کیوں نہ چیخیں جب رنگ و نور والے چوراہے میں خون آشام دہشت گرد معصوم بے گناہ غیر مسلح انسانیت کو لہو کا چولا پہنا دے گا۔ جب کبھی سارے خاندان کی اجتمائی قبر سے لپٹ کر رونے والا بچہ، کسی چوک میں نہتوں کو رلائے گا۔
جب کبھی ماں، بہن بیٹی کی لٹی عزت پر چادر چڑھانے والا اور باپ، بھائی، بیٹے کی کٹی پھٹی لاشیں اٹھانے والا کسی نیو ائیر نائیٹ کو ماتمی شام میں بدلے گا۔ ہماری ڈی پیوں کا رنگ بھی بدلے گا۔ ہمارے دلوں میں ٹیسیں بھی اٹھیں گی۔ہمارے چہرے پر ملال بھی نمایاں ہو گا۔ ہماری آنکھوں سے اشک رواں ہوں گے۔ ہمارے کی بورڈوں سے تعزیت، افسوس، لعن تعن کے لئے لمبی لمبی پوسٹیں ٹھک ٹھک کرتی نمایاں ہوں گی۔
ہم انسانیت کے ساتھ کھڑے ہوں گے جب بھی کوئی مظلوم ہماری بے حسی، پتھر دلی، ستم کوشی، طوطا چشمی اور بے غیرتی کی وجہ سے انسانیت نامی شے سے مایوس ہو کر کسی "پر امن ظالم" کے گریبان میں ہاتھ ڈالے گا ہم بولیں گے۔

Thursday, March 31, 2016

میراثیوں کا رولا!

بالے میراثی کی برادری بڑی تھی اور ٹبر بھی۔ ہر تیسرے دن کوئی نہ کوئی مر پڑتا۔ کوئی بوڑھا دمے سے موت کا شکار ہوا، کوئی عورت زچگی کے دوران مر گئی، کوئی بچہ نمونیے سےفوت ہو گیا، کوئی لڑکی تندور پہ آگ لگنے سے ہلاک۔کوئی مرد کرنٹ لگنے سی لڑھک گیا۔ سبھی گھر ایک ہی گائوں میں آس پاس تھے۔ روز کی بیماریاں، 
مردے، میتیں،کفن دفن، قبریں، جنازے؛ بالا تو گویا 'اک' ہی چکا تھا۔ خاص کر سسرالیوں سے ان بن کے باوجود منہ بسورے ان کی کھاٹیں اٹھانی پڑتیں۔
ایک رات گائوں میں ڈاکہ پڑا۔ مزاحمت پر بالے کے سسر سمیت تین دیگر سسرالی گھر کے مارے گئے۔ بالا گاؤں سے باہر تھا۔ اس کی عورت تابعدار اس کی اجازت کے بغیر دہلیز پار نہ کرنے والی۔ بالے کو حادثے کا معلوم پڑا تو بھاگا چلا آیا۔ کالے کپڑے نکالے، بیوی کو بھی کہا ماتمی لباس پہنے۔ جورو کو غم کے باوجود اچھا لگا کہ پہلی بار سسرالیوں کے دکھ میں اس کو اپنے آپ مضطرب دیکھ رہی تھی۔
دونوں گھر سے باہر کو چل دئیے۔ سامنے درختوں کی جھنڈ سے پرے عورتوں کے بین کی آوازیں آ رہی تھیں۔ بالا اور اس کی جورو آگے پیچھے چلتے پگڈنڈیاں ناپنے لگے۔ شیشم کے بڑے درخت سے بالا اوپری محلے کو مڑ گیا۔ پیچھے آتی اس کی عورت ٹھٹک کے رکی۔ لمحہ بھر انتظار کے بعد روہانسی ہو کے پکاری۔'' اے بالے، اوئے میرے دکھیارے۔ غم میں پگلا گیا''۔
اودھر کو چل ناں، ساری میتیں ابے کے ویہڑے ہی رکھی ہیں۔ بالا رکا، اور پیچھے دیکھے بغیر بولا '' کمینیے، چپ کر کے چل، رات ڈاکو، چوہدری کی مج بھی لے گئے۔ پہلاں اس کا افسوس کرنا ہے۔

Sunday, February 1, 2015

سپارٹکس کا مدرسہ۔

سپارٹکس، ایک دومالائی کردار، یورپ کے داستان گو کا سورما۔اساطیری سرباز،بہادر، جری۔

عظیم سلطنت روما کا باغی۔ سو ہزار برگشتہ و منحرف غلاموں کا رہنما۔
جی ہاں وہی غلام شمشیر زن، نیزے باز، تیغدار جن کی بارے فلمیں بنا بنا ھالی وڈ پیسے کماتا ہے۔ گلیڈی ائیٹر!!
آزادی کا متوالا، صرف اکیس سو سال قبل وہ رومن فوج کے ہر اول دستے کا بہترین سپاہی تھا۔ پھر کسی شاہی فرمان کے برعکس اس نے اپنی ہی عوام پر تلوار اٹھانے سے انکار کر دیا۔
پاداش میں اس کا گھر جلا دیا گیا، اس کو بیوی سمیت غلام بنا کر بیچ ڈالا گیا۔
روم کی ان بھول بھلیوں میں جہاں موت کا کھیل کھیلا جاتا تھا۔ جہاں پنجروں میں بجائے جانوروں کے انسان پالے جاتے اور جہاں میدان میں   آدمی لڑائے جاتے۔
وہ پیدائشی حریت پسند تھا۔ آزاد منش، اس کی ماں نے اسے آزاد جنا تھا، اس کا بچپن، اس کی جوانی آزاد ہی گزری تھی۔
اسے رومیوں کی دلجوئی کے لئے، ان کے وحشیانہ شوق کی تسکین کے لئے ان کے سامنے کٹنا کاٹنا، مرنا مارنا انہتائی ناگوار گزرتا۔
اپنے دوستانہ انداز نے اسے  پہلوانوں کے درمیان پسندیدہ شخصیت بنا دیا اور اسی کا فائڈہ اٹھاتے ایک دن وہ اپنے ستر ساتھیوں سمیت فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔
ان ستر مفروروں نے چھاپہ مار کاروائیوں سے  بہت جلد روم اور مضافات میں اپنی دھاک بٹھا دی۔ لوگوں کی زبان پر ان کا نام عام ہونے لگا۔ اور غلام انہیں نجات دہندہ سمجھ کر ان کے پاس پہنچنے لگے۔
وہ ستر سے سات سو ہوئے اور پھر سات ہزار۔ رومیوں کے ستائے ہوئے، ان کے انسانیت سوز مظالم سے تنگ آئے غلام فرار ہو کر ان کے پاس پہاڑوں میں پہنچنے لگے، عورتیں ، بچے، بوڑھے۔ اس قافلے میں سبھی  ملتے جارہے تھے۔ سپارٹکس جہاں  جنگی مہارت میں لاجواب تھا وہیں انتظامی صلاحیتوں کا بھی بہترین مظہر ثابت ہوا۔  اس نے سلطنت روما کے ان باغی غلاموں کے اندر   اک آزاد زندگی کا جذبہ پھونک ڈالا۔ وہ مرنے مار نے کے پروردہ تو پہلے ہی تھے اب ان کے سامنے ایک منزل تھی ایک خواہش تھی اور ایک جذبہ جو  دوسرے ہر خیال سے برتر تھا، بدلے کا،  انتقام کا، ظلم کے عوضانے کا۔ اور  برسوں ظلم کی آگ میں جلنے کے بعد،  ان غلاموں کے لئے  انسانی جان بے وقعت تھی۔ سو  وہ مستقل اور منتقم مزاجی کے ساتھ سلطنت  پر حملے کرنے لگے۔  وہ شہروں، قصبوں دیہاتوں پر حملہ آور ہوتے ، مال دولت لوٹ لیتے اور کشتوں کے پشتے لگا دیتے۔ ان کے سامنے آنے والا نہ بوڑھا ہوتا، نہ عورت نہ بچہ، ان کی نظر میں سب ایک تھے "ظالم رومی"۔
اس  مفروری سپاہ کی انتقامی کاروائیوں میں جان سے جانے والے رومیوں کی گنتی کا اندازہ ہی لگایا جاتا ہے۔ چار لاکھ، پانچ لاکھ، سات لاکھ۔
سپارٹکس ایک بہترین گوریلا رہنما تھا، وہ پلٹنے، چھپٹنے، چھپٹ کر پلٹنے کی حکمت عملی سے بخوبی واقف تھا  اور ان جنگی حکمت عملیوں پر عمل پیرا ہو کر اس نے سلطنت روما کی بنیادوں کو ھلا کر رکھ دیا۔ اس کی سرکوبی کے لئے بہت  دفعہ کوششیں کی گئیں لیکن بےسود و بےکار۔
ایک سال کے عرصے میں سپارٹکس کے پاس ایک لاکھ سے زائد لوگ اکٹھے ہو چکے تھے۔ 
سپارٹکس کو  اپنے لوگوں کی فکر تھی۔ اتنی بڑی آبادی کو یوں جنگلوں ، پہاڑوں میں ساتھ رکھ کے گوریلا جنگ ممکن نہ تھی اس لئے اس نے اپنے غیر جنگی ساتھیوں کو  سلطنت روما کی پہنچ سے دور پہنچانے کا منصوبہ بنایا۔
اس منصوبے کی مخالفت میں اس کا جانثار دوست   کرکسِز ، اپنے تیس ھزار  ہمنوائوں کے ساتھ عیلحدہ ہو  کر رومیوں کے ساتھ جا بھِڑا اور مارا گیا۔
دوسری طرف سپارٹکس کے ہمراہیوں نے بھی روم سے نکلنے سے انکار کر دیا۔ سپارٹکس انہیں لے کر   روما کی اس تنگ پٹی کی جانب چلا  جہاں سمندر کے اس پار سِسلی واقع ہے۔ وہ اپنی "رعایا" کو کسی محفوظ جگہ بسانا چاہتا تھا۔ لیکن  قسمت نے ساتھ نہ دیا اور وہ کبھی سمندر پار نہ کر سکا۔  رومی  اپنے رہنما کراسِس  کی قیادت میں بھرپور تیاری کے ساتھ موقعہ غنیمت جان کر  واپسی کے پینتسی میل چوڑے راستے کو بند کر دیتے ہیں۔
تنگ آمد بجنگ آمد سپارٹکس اپنے جانثاروں کے ہمراء رومیوں سے لڑتے ہوئے مارا گیا۔
ساٹھ ہزار کے لگ بھگ   سپارٹکس کے ساتھی بھی اس جنگ میں کام آئے۔ چھ ہزار کے قریب زندہ گرفتار ہوئے، جنہیں بعد ازاں  سلطنت روما نے اپنی دھاک بٹھانے کو سرعام ٹٹکیوں پر باندھ کر مارا۔
غلاموں کی اس جدوجہد کا اثر یہ ہو کہ رومیوں کو عقل آگئی اور وہ   غلاموں سے قدرے بہتر سلوک کرنے لگے۔اور سلطنت روما۔۔۔۔ سلطنت روما کی چولیں ہل چکی تھیں، بیس پچیس برس کے بعد  نقشہ بہت بدل چکا تھا۔
لاکھوں رومیوں کے قاتل، عورتوں ، بچوں اور بوڑھوں تک پر بھی رحم نہ کرنے والے اور عظیم سلطنت روم کے ایک بہت بڑے باغی کو یورپی عمرانیات کے ماہرین ، "ریووشنلسٹ، ریفامر، اور آئیڈئلسٹ قرار  دیتے ہیں۔  اسے مارٹن لوتھر کنگ 
اور  رابن ھڈ جیسا ہیرو گردانا جاتا ہے۔
مکمل کہانی تاریخ کے اوراق پر درج ہے۔ اور ہمارے  لائیٹنے کا مقصد فقط یہ کہ تاریخ دانوں نے سپارٹکس کی خون ریز طبعیت کی وجہ اس کا   مسعود اظہر کی تقریریں سننا، اس کی انسانیت سوزی  کی نفسیات کے پیچھے  مرید کے والے اجتماع  میں شرکت، اور اس کے ظلم و ستم  کا موجب ضیاء الحق کی مونچھوں والا ستائل بتایا ہے۔
عورتوں کو مارنے کی تعلیم اس نے بنوری ٹائون سے حاصل کی، بچوں پر رحم نہ کرنے کی تربیت کا خرچہ سعودی حکومت نے اٹھایا اور بوڑھوں کو بے دردی سے مارنے کا جذبہ اس نے  مودودی کی کتابیں پڑھ کر پالا۔
مورخین اس بات سے بھی  متفق ہیں کہ سپارٹکس  "اسلامی وہابی شدت پسندانہ" نظریات سے  متاثر تھا۔
اور اس کا اسلامباد کے چند مدارس میں بھی آنا جانا تھا۔

Thursday, January 15, 2015

کیا اب ختنوں کی تجدید ہو گی؟؟


تو کیا؟
حجامت کی دوکان کھولی؟
اب ریش کو زبان دانی کی قینچیوں سے کترو گے؟
اپنی داڑھیوں کو تراش کر نالیوں میں بہا دیں؟
لوطیوں سے چہرے بنا لیں!
تو کیا ؟
تمہارے ذوق نظر کی خاطر،
اپنی شلواروں کو کاندھے پر دھر لیں، کہ اونچے پائینچوں سے تمہارے عدسے کے زاویے خراب ہوتے ہیں۔
اب کاتبین کے ترلے ڈالیں ،
ہمارے اعمال ناموں میں امن کے پکوڑے ڈال کر موم بتیوں کی لو والوں میں بانٹ دو۔
ہم دل کو سینوں سے نکال کر بٹوے میں رکھ لیں .
(کہ گلی کے نکڑ پر امن کے فوجدار دُکھ کی ماہیت و کیفیت چیک کریں گے)
کیا آنسوءں کا خاکیوں کی لیبارٹری سے ٹیسٹ ہو گا؟
کونسا قطرہ وطن کی محبت سے لتھڑا ہوا اور کس آنکھ میں منافقت ہے۔
اور قبل ازیں، آسمان کو رسیوں سے کھینچ کر خدا کو زمین پر اتاریں ۔
آئو!
ہماری سینوں پر نیک نیتی کی مہریں ثبت کر دو۔
ہم سجدوں کے نشاں چھپانے کو قشقے کھینچے،
ہم تسبیحوں کی جا گلے میں صلیبیں لٹکائیں اور ہم
مصلے کا رخ قبلے سے موڑ کر تمہارے سفید محل کی جانب کر لیں!!


Saturday, April 5, 2014

صحرا کا پھول

سنتے ہیں کہ نجد کے صحرا میں عشق کا پھول کھلا تھا۔  سینہء قیس میں۔ جو زلف لیلی کا اسیر تھا۔
کتنے ہی مائوں کے لال اس عشق نے بے حال کئے اور ایسے بھی   اہل بصیرت کو   دِکھے  جو اسی عشق کی بدولت  مالا مال ہو گئے ۔
عشق!  لیلائے شہادت کا، محبت دین الہی کی، تڑپ میدان جہاد کی۔
ایسے عشاق بھی گزرے جن کے  لئے  ہی کہا گیا
آ کے سجادہ نشیں قیس ہوا میرے بعد
نہ رہی دشت میں خالی کوئی جا میرے بعد
نجد کا وہ شہزادہ بھی کچھ ایسی ہی داستان سرائی میں مشغول تھا۔
صحرا کے بیچوں بیچ کھجوروں کا وہ باغ، چاندنی رات کا رومان پرور منظر،  ریت کو چھو کر آتی مست ہوا کے جھونکے اور اس پر اس کا بیان اللہ اللہ!
وہ کہے جا رہا تھا اور  میں محو سماعت تھا۔


""عرق انفعال اس کی کشادہ جبین پر چمک رہا تھا۔ آنسو موتی بن بن   ریش ، رخسار کو بھی منور کر رہے تھے۔  توبہ استغفار، آہ و فغان، ہچکیاں اور سسکیاں، اس کا بدن کانپ رہا تھا۔ وہ اپنے چہرے کو ہتھیلیوں میں چھپائے التجائیں کر رہا تھا، دعائوں کو لبوں سے   جدا کر رہا تھا۔ اس کی خوشبودار بھیگی  سیلی گیلی  سرگوشیوں میں مناجات کی چمکیلی رنگت صاف دکھتی۔ حرم پاک کے پاکیزہ، باوقار ماحول میں جہاں دل جلال الہی سے  نگوں   اور سینے  انوار سے پُر  ہوتے ہیں۔ وہ رکن یمانی کے عین سامنے
ایک ستون کی آڑ میں کعبہ رخ دوزانو بیٹھا  بید مجنوں   سا   لرزاں تھا
جمعہ کا مبارک دن اور مکہ مکرمہ کی پاکیزہ سرزمین، ایک جم غفیر کہ امنڈا چلا آ رہا۔  فلک بوس عمارتوں کے سایوں سے نکل کر سفید سنگ مرمر  کی سلوں پر قدم رکھتے ہی بندے کی تمام تر عاجزی اور انکساری کے جذبات احاطہ کئے ہوئے محسوس ہوتے۔دل  کی زمین خود بخود نرم ہو جاتی ہے ایسے میں ایمان کی کونپلیں پھوٹتے دیر نہیں لگتی۔  ایقان اپنے اوج تک جا پہنچتا ہے اور انسان کے سینے میں حق  سانسوں کی جا ، جاری ہوتا ہے۔
"عبدلوہاب رح"   کا محلے دار   اپنا  مافی الضمیر بیان کر رہا تھا۔ اس کی کوشش تھی کہ الفاظ آسان تر اور  عام فہم ہوں تا کہ مجھ سے نابلد کو تفہیم میں مشکل پیش نہ آئے۔ لیکن جذبات کا بہائو اور احساسات کے تیز جھونکے اس کی  زبان کو  فصیح و بلیغ  عربی میں کھینچ لے جاتے۔  اور میں اس کے " بھائو تائو  کو ماپتے، اس کے اشارے کنایوں اور رموز کو  پرکھتا اس کا مطلب سمجھنے کی کوشش کرتا۔
وہ  دیار عبدلوہاب کا باسی کہہ رہا تھا
" میری اس کی پہلی ملاقات  وہیں ہوئی تھی حرم مکی میں، عین کعبہ کے سامنے۔  وہ کتنی ہی دیر روتا رہا۔ اور میں اس کے پروقار چہرے کو حیرت سے تکتا رہا۔ ایسے بھی نوجوان ہوتے ہیں!! ایسے بھی مسلمان ہوتے ہیں!!
تھکاوٹ سے چور میں  کچھ دیر آنکھ لگانے کے ارادے سے لیٹا ہی   تھا، جب اس پر نظر پڑی اور آنکھ وہیں اٹک گئی تھی۔
کتنی گھڑیاں گزر گئیں، اور میں ٹک دیدم اس کا دیدار کرتا رہا۔   اس نے  ہتھیلیوں سے اپنا چہرہ صاف کیا اور اٹھ کر میری طرف مُڑا  ، میں نظریں چرانے لگا اس کے معصوم چہرے پر مسکراہٹ پھیلی  اور  مجھے سلام کر کے اپنا سامان اٹھانے  کی اجازت طلب کی۔  اس کا تھیلا میرے سر تلے دبا تھا۔
پھر وہ  بابِ فہد سے  باہر کی جانب چل دیا۔  میں سوچوں میں گم، اک عجیب کیفیت میں تھا۔ اس  کی آنکھوں سے جھلکتی کُڑھن، اس کی ھچکیاں، آنسوئوں سے تر چہرہ، اس کا لرزیدہ بدن اور اس پر طاری وجد بار بار میری نظروں کے سامنے آتا رہا۔ میرے دل میں اللہ نے اس کی محبت پیدا فرما دی۔  میں کتنی ہی دیر اس کے لئے دعا کرتا رہا۔ اور شاید زندگی میں پہلی بار مجھ گنہ گار کو  "دعا کی قبولیت" کا احساس ہوا۔   دو چار دن میں اس  کے خیال میں ڈوبا رہا اور پھر شب و روز کے بکھیڑوں میں اس کی یاد کہیں زہن  کے نہاں گوشوں میں تہہ ہو کر رہ گئی۔
عبدلوہاب رح کا پڑوسی  بولتے بولتے رُکا، جوں  دور دیکھ رہا ہو۔ پھر اچانک مجھ سے معذرت خوانہ لہجے میں کہنے لگا ۔
"یار میں اپنی رو میں بہہ رہا تھا۔ آپ کو سمجھ لگ رہی ناں"
آپ کہتے رہئے  بندے کو سمجھنے سے زیادہ سننے میں لطف محسوس ہو رہا"
میں نے اس کے احساسات کی لطافت کے بارے  خیال کرتے ہوئے کہا۔
وہ پھر گویا ہوا۔

""حسین اتفاق ایسے ہی ہوتے ہیں ! زی الحج، مطاف کعبہ میں ایک بوڑھا ایرانی جوڑا   تکبیر کا ورد   کرتے  طواف کر رہا تھا۔  انتہائی ضعیف  و نخیف بابا وہیل چئیر  پر  بیٹھا تھا اور مائی بمشکل اسے دھکیل رہی تھی۔   مجھے اچھا نہ لگا اور میں نے اشاروں سے سمجھا کر کرسی کی ہتھی اپنے حساب میں کر لی۔ شدید گرمی میں  پسینے  پھوٹ رہے تھے اور  میں تیسرے چکر میں ہی ہانپنے لگا۔  مقام ابراہیم سے زرا آگے کسی نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ اتنی بھیڑ میں یہ معمولی بات  ہوتی ہے۔ لیکن جب اس ہاتھ میں سے اپنائیت و محبت کی لہروں نے میرے دل پر دستک دی تو مجھے مُڑ کر دیکھنا پڑا۔ وہی نوجوان میرے زہن کی غلام گردشوں میں سفر کرتا میری آنکھ کے دریچوں سے جھانک رہا تھا۔  جی وہی رکن یمانی کے سامنے والے ستون کے پیچھے ھچکیاں لینے والا نوجوان۔
اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔ "اخی تھک جائو گے۔ مجھے پکڑائو، اور پھر وہ ایرانی جوڑے کو طواف کرانے لگا۔ میں بھی اس کے  ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔
اور یوں ہمقدم ہو گئے۔ حج کے تما م ایام مجھے اس کا ہمسفر بننے کی سعادت حاصل ہوئی۔  اس کا اخلاق مثالی تھا، اس کی مسکراہٹ نرالی تھی۔ اس کا  لہجہ محبت و موددت سے لبریز ہوتا اور اس کا ہر انداز انکساری والا تھا۔ وہ  ہر اس دل میں گھر کر جانے والا تھا جو اس کی رفاقت میں چند گھڑیاں گزار لیتا۔ اور میرے دل میں اس کی عزت و عظمت بڑھتی ہی چلی گئی۔  اس کی صحبت کا فیض مجھے مل رہا تھا۔ میرا دل بدل رہا تھا
( میرے زہن میں آیا
چنگے بندے دی صحبت جیویں دوکان عطاراں
سودا بھانویں مل لئے نہ لئے
چلہے آن ھزاراں)

حج کے بعد مدینہ منورہ کو ارادہ تھا، اس نے اپنے ہمراہ چلنے کی دعوت دی اور اس کی زبان میں ایسی حلاوت تھی کہ انکار ہو نہیں سکتا تھا۔ سو میں اس کے ساتھ ہی مکہ مکرمہ سے مدینہ کو چل نکلا۔
بیت عتیق سے لے کر میدان عرفات اور  منی ومزلفہ  سے غار حرا تک اس اللہ کے ولی نے میرے زہن میں انقلاب برپا کر دیا تھا۔ توحید کیا ہے، اللہ کون ہے، انسان کا  منصب کیا ہے اور فریضہ کیا،  دعوت حق کا طریق کیا اور تبلیغ دین کا   سلیقہ کیا۔ مکہ مکرمہ میں گزری نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حیات مبارکہ کا ایک ایک لمحہ اس  مدینے کے شہزادے نے یوں بیان کیا کہ  میرے سامنے سارے منظر عیاں ہوتے چلے گئے۔
پھر وہ  مجھے لے کر  باغوں والی سرزمین کی جانب ہو لیا۔  میں اس کے پیچھے پیچھے "یہ میرا ھادی ہے"
ابو بکر رضی اللہ عنہ کفار کے پوچھنے پر  نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے متعلق فرماتے تھے۔  میرا  زہن و دل بھی  ابی بکر رضی اللہ عنہ کی سنت پر عمل پیرا تھا۔ وہ مجھے مکہ سے مدینے کو لئے جا رہا تھا اور میں ایک ٹرانس میں چل چلا چل۔
وہ   راہ کی منزلوں کا تعارف کراتے جاتا۔
اور پھر مدینہ آ گیا۔ منور و تاباں،
اور میں اس کی معیت میں اس سرزمین پاک پر  اس انداز میں گھوما کیا جوں اولیں بار ہو!
""
میں اپنے نبی کے کوچے میں
چلتا ہی گیا چلتا ہی گیا
اک خواب سے گویا اٹھا تھا
کچھ ایسی سکینت طاری تھی""
جب مسجد نبوی کو دیکھا
میں روضہء جنت میں پہنچا
جس جاء و مبارک چہرے کو
اشکوں سے اپنے دھوتا تھا
جب دنیا والے سوتے تھے
وہ ان کیلیے پھر روتا تھا
اک میں تھا کہ سب کچھ بھول گیا
اک وہ تھا کہ امت کی خاطر
کتنے صدمے اور کتنے الم
جھلتا ہی گیا جھلتا ہی گیا
میں اپنے نبی کے کوچے میں
چلتا ہی گیا چلتا ہی گیا
طائف کی وادی میں اترا
طالب کی گھاٹی سے گزار
اک شام نکل پھر طیبہ سے
میدان احد میں جا بیٹھا
واں پیارے حمزہ کا لاشہ
جب چشم تصور سے دیکھا
عبداللہ کے شہزادے کو
اس دشت میں پھر بسمل دیکھا
یہ سارے منظر دیکھ کے پھر
میں رہ نہ سکا کچھ کہہ نہ سکا
بس دکھ اور درد کے قالب میں
ڈھلتا ہی گیا ڈھلتا ہی گیا
میں اپنے نبی کے کوچے میں
چلتا ہی گیا چلتا ہی گیا
میں کیا منہ لے کر جائوں گا
کوثر کی طرف جب آئوں گا
تلوار میں میری دھار نہیں
وعظ و اصلاح سے پیار نہیں
باتوں میں میری سوز کہاں
آہیں میری دلدوز کہاں
کتنے ہی پیماں توڑ چکا
میں رب کی یادیں چھوڑ چکا
ایک ایک میرا پھر جرم مجھے
کھلتا ہی گیا کھلتا ہی گیا
میں اپنے نبی کے کوچے میں
چلتا ہی گیا چلتا ہی گیا
پھر لوٹ کے جب میں گھر آیا
اک شمع ساتھ ہی لے آیا
یہ حب سنت کی شمع
جس دن سے فروزاں کی میں نے
اس دن سے میں پروانہ بن کر
جلتا ہی گیا جلتا ہی گیا (احسن عزیز)
ہر  نماز کے بعد، ہر موقع پر میرا بھائی دعا کرتا، ایسی رقت آمیز دعا ، اسی لفط و اثر والی دعا اور ایسی خلوص و جوش والی دعا کہ دل کہتا قبول ہوئی ان شاء اللہ۔   اور پھر میں اسی کے ہمراہ طواف کے لئے مکہ کولوٹا۔
اک بار پھر  ""عرق انفعال اس کی کشادہ جبین پر چمک رہا تھا۔ آنسو موتی بن بن   ریش ، رخسار کو بھی منور کر رہے تھے۔  توبہ استغفار، آہ و فغان، ہچکیاں اور سسکیاں، اس کا بدن کانپ رہا تھا۔ وہ اپنے چہرے کو ہتھیلیوں میں چھپائے التجائیں کر رہا تھا، دعائوں کو لبوں سے   جدا کر رہا تھا۔ اس کی خوشبودار بھیگی  سیلی گیلی  سرگوشیوں میں مناجات کی چمکیلی رنگت صاف دکھتی۔ حرم پاک کے پاکیزہ، باوقار ماحول میں جہاں دل جلال الہی سے  نگوں   اور سینے  انوار سے پُر  ہوتے ہیں۔
ایک ستون کی آڑ میں کعبہ رخ دوزانو بیٹھا  بید مجنوں   سا   لرزاں تھا۔ میں اس کی دعائوں پر امین کہہ رہا تھا،  اس نے افغانستان سے صومال اور شیشان سے سوریا تک  آفیت طلب کی۔ کشمیر سے گجرات تک خیر مانگی۔ برما سے   افریقہ تک امت کی بھلائی کا سوال کیا۔  اور میں گم سم  یہ سوچتا رہا، کاش اس اللہ کے والی جیسا اک لمحہ مجھے میسر ہو جائے، اک ھچکی ایسی ہی میری بھی بندھے، اک آہ میرے لبوں سے اسی طرح کی پھوٹے، اک پھانس سینے میں ایسی ہی چھبے، اک درد رگوں میں ایسا ہی جاگے۔ میرے جگر میں بھی امت کا   ااثر کرے۔ کاش اک آنسو میری پلکوں سے ڈھلک جائے، کاش اک دعا اسی خلوص سے میرے حلق سے بھی وا ہو اور میرا بیڑا پار ہو جائے""
"مجھے بھی اس کی زیارت کرائو ناں!
میں اتنی دیر بعد بے تابانہ بولا۔
"ہمم اس کے لئے وہاں جانا پڑے گا"
اس نے  ایویں آسمان کی جناب ہاتھ اٹھا دیا۔
"کہاں" میرا دھیان کہیں اور تھا۔
"جنتوں میں"
او ، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ کب؟
میں نے   دل کی گہرائی میں درد کی ٹیس محسوس کی۔
" کچھ  ہفتے قبل وہ ر ب رحمان سے کیا وعدہ نبھا گیا"
وہ مسکرایا۔ " ایسی جدائی کے درد میں بندہ رو بھی نہیں سکتا کہ  انعامِ شہادت کی ناقدری ہوتی"
  
کوئی شب گزیدہ مرغ  نور تڑکے کے آثار قریب دیکھ کر بانگ دینے لگا  اور میں  اس نجد زادے کی عین الیقین سے پُر نظروں میں سحر زدگی سے دیکھے جا رہا تھا۔
ستاروں کی تنک تابی  نوید صبح روشن کی نوید سنا ر ہی تھی۔     ہم نے اٹھ کر قریبی کھال میں وضو کیا ۔  تہجد پڑھی اور میں نے اسے عرض کیا۔ بھیا! دعا مانگو۔ وہ دعا کرنے لگا۔  سسکیاں نکلیں۔ پھر  اس کی ھچکیاں بند گئیں۔ آہیں بلند ہونے لگیں۔ سینہ دھونکنی کے جیسے چلنے لگا آواز میں سوز اور درد تھا  اس نے سب مانگ لیا  ،اس سے اسی کو، پھر  خاموشی چھا گئی۔ طویل خاموشی۔   اور میں تہی دامن   کہ وہن زدہ ،  میرا جی جلنے لگا۔ میں چپ چاپ  سوچے جا رہا تھا
"کاش اک لمحہ اس جیسا مجھے بھی عطا ہو جائے۔ اے کاش ایسا درد میرے دل میں بھی اٹھے، ایسی ٹیس میری روح میں بھی پیدا ہو، ایسا سوز مجھے بھی ملے، ایسا   اک آنسو میرے رخسار کو بھی چومے، ایسی اک ہچکی میری بھی بندھے، ایسی تڑپ مجھے بھی ملے۔ ایسی ہی پھانس میرے سینے میں اٹکے۔  اے کاش کہ وہ دعا میں میرا نام لے کر کہہ دے۔
تہِ شمشیر یہی سوچ ہے مقتل میں مجھے
دیکھیے اب کسے لاتی ہے قضا میرے بعد




Saturday, March 15, 2014

سیانا کسان!

"قد افلح" کی کھیتی کب لہلہاتی ہے! جب بنجر سینے پر ضرب کلیمی کا اثر ہوتا ہے۔ قد افلح کا پرنور سبزہ کب پھوٹتا ہے! جب حب جاء والی سوکھی زمین پر زکر الہی سے انوار کی بارش ہوتی ہے۔ قد افلح کا بیج کب بویا جاتا ہے! جب دلوں سے ہر "غیر" جھاڑ جھنکاڑ صاف کر دیا جائے۔ قد افلح کا موسم کون سا! جب سردیوں میں وضو کے پانی سے کپککاہٹ طاری ہو جائے، جب گرم دوپہروں میں مسجد کو جاتے پسینہ شرابور کر جائے، جب رات کی گھنی تاریکی میں رب کی پکار لگے۔جب کبھی خشیت الہی سے آنکھیں جھڑی بن جائیں۔جب کبھی حب الہی سے چہرہ تمتما اٹھے۔ بھری جوانی کی تمام تر رعنائیوں میں، بڑھاپے کی ساری کمزوریوں میں، جب اعضاء جوارح کانپنے لگیں، جب ہوش جانیں لگیں۔ قد افلح کا موسم باقی رہتا تا وقتیکہ توبہ کا در نہ بند ہو جائے۔ قد افلح دنیا سے بے نیازی میں، قد افلح واحد لاشریک کے سامنے عجز اختیار کرنے میں، قد افلح جب سنت رسول کے سوتوں سے سیرابی قلب ہوتی ہے۔ قد افلح ۔ فلاح ملتی ہے اس فلاح کو جو کھیتی کو تیار کرنے میں تساہل نہ برتے، کھیتی لہلہاتی ہے اس کسان کی جو زمین کا سینہ چیرنے میں کوتاہی نہ دکھائے، جس کے ہل کے پھل تیز رہیں، جس کی زمینوں کی سیرابی بروقت ہو، جس کی فصل میں فالتو جڑی بوٹیاں نہ ہوں۔ جس کی حسیں تیز تر ہوں موسموں کے بدلنے سے قبل، وقت کے ڈھلنے سے پہلے جو بوائی کر لے۔ فلاح پاتا ہے وہ کاشکار جو
ناہموار زمین کو سیدھا کر لے، جو اونچے نیچے ٹیلوں کو نرم بنا لے، جو جھا ڑ جھنکار کو ختم کر لے۔ کامیاب ہوتا ہے وہ زمیندار!! فلاح ملتی ہے اس کاشتکار کو! قد افلح کی خوشخبری ہے اس جاگیردار کے لئے! جس نے اپنی زمین "پٹواریوں " سے بچا لی۔ جس نے اپنے کھیت گرداورں سے محفوظ کر لئے، جو اپنے قطعے "محکمہ مال" کی ہیرا پھری سے بچا پایا۔ جو شریکوں کی دست درازیوں سے اپنے کھلیانوں کی حدود کی حفاظت کر سکا۔ قد افلح جس نے اپنی زمینوں کے لئے سینے پر زخم لگوائے، قد افلح جس نے اپنی محنت بچانے کو لاٹھی اٹھائی، قد افلح جس نے اپنی فصل کی حفاظت خاطر سینہ تانا، قد افلح جس نے غیرت کھائی، قد افلح جس نے اپنی اولاد کے حق کے لئے لڑائی کی، قد افلح جو پرکھوں کی میراث کی خاطر غصہ ہوا۔ قد افلح جس نے پسینے کے ساتھ لہو بہایا۔ قد افلح جس نے جان گنوائی۔ فلاح وہی اور فلاح اسی کی جس نے خود کو، اپنی فصلوں کو، اپنی زمینوں کو، اپنے کھلیانوں کو رب کے حکم کے مطابق جہد مسلسل کر کے بچا لیا!


Saturday, March 1, 2014

سچائی کی پنہائیوں میں! پہلا حصہ۔

  ارن دھتی کہتی ہے ، "زمین ایک رِستے زخم کے جیسے  لہولہان ہے، سرخ دھول  نتھنوں سے ہوتی پھیپھڑوں میں بھر جاتی ہے۔ ان کے چہرے  لال ہیں، بال مٹیالے ہیں، لباس گرد میں اٹے ہوئے ہیں، آتے جاتے ٹرک ان کی زمینوں کا خزانہ چرا کر راستوں سے دھول اڑاتے گزرتے ہیں"۔ اور  بقول ارن دھتی رائے ، وہ  اپنے سونا   چین کی جانب جاتا دیکھ کر حسرت سے آہ ہی بھر سکتے ہیں۔

 دو ہزار نو کے شروع میں ہندوستانی سرکار نے " سبز شکار" کا ارادہ بنایا۔ ایک بڑا عمل جراحت، "گرین ہنٹ"   ان  "سبز پوش سرخوں" کے خلاف جو تین   دھائیوں سے دہلی سرکار کی ناک میں دم کئے ہوئے ہیں۔ اس تحریک میں سانولے لڑکے،  سلونی لڑکیاں،  کالی بھجنگ عورتیں، توانا    مرد،  بے ڈھول بوڑھے  شامل ہیں   وہ نکسل باڑی جو ھندوستان  کے پانچ سے زائد صوبوں اور پچاس سے زیادہ اضلاع کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہے۔ وہ مائو نواز باغیوں کی تحریک جس نے  جنوب مشرق کی پوری پٹی پر اپنا اثر بنا رکھا ہے۔   کرناٹکا،  مہارشٹرا، جھاڑ کھنڈ، بہار چھتیس گڑھ، بنگال، اڑیسہ، آندھرا پردیش، کیرلا اور تامل ناڈ تک کو  اپنے قابو میں کر رہے۔ دیہاتوں میں، جنگلوں میں،  دریائوں میں ، پہاڑوں اور دلدلی علاقے میں اپنا اثر و رسوخ رکھنے والی کیمونسٹ مسلح تحریک کے پاس  دو  لاکھ سے زائد رضا کار ہیں۔  چالیس ہزار کے لگ بھگ لڑاکے ۔ بہادر، بے دھڑک، موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر زندگی گزارنے والے دیہاتی۔  جان ہتھیلی پر رکھ کر جینے والے قبائلی۔ سنگ دل ،گلے کاٹنے والے۔ سخت جان ، دشمن کو نہ بخشنے والے۔ دیش دروہی، بقول من موہن سنگھ  ہندوستانی ریاست کے لئے سب سے بڑا اندرونی خطرہ، وطن دشمن  جو اپنی ہی سر زمین کو لہو لہان کر رہے۔٭٭  ہندومت کے تکفیری ،  اپنے فوجیوں کو   "مسلمان" قرار دے کر مارنے والے٭٭۔   پولیس والوں کے سینے چھلنی کرنے والے۔

ریل کی پٹڑیاں اکھاڑنے والے،  بسوں کو اغوا کرنے والے۔" آدی واسیوں "کے لئے  ھیرو اور  ہندوستانی میڈیا       کے بقول  دہلی سرکار کے سر کا  درد۔ ہندوستانی زمین کا ناسور۔ جو  اپنے علاقوں پر کالا جنگلی قانون لاگو کرنا چاہتے۔ جو ترقی کے دشمن ہیں، جو وطن کو پتھر کے زمانے میں دھکیلنا چاہتے۔   بھدے،  بد شکل، کم عقل، جاہل  مائو نواز قبائلی۔ ۔  آسان الفاظ میں سمجھئے تو ہندوستان  میں نکسلیوں کے بارے ویسی ہی کہانیاں مشہور جوں پاکستانی میڈیا  "طالبان" کے لئے پیش کرتا ہے
پاکستانی میڈیا  "طالبان" کے لئے پیش کرتا ہے۔


لیکن سب لوگ آنکھیں بند کر کے یقین کرنے والے نہیں ہوتے۔ خاص کر جب معاملہ انسانیت کا ہو، مسئلہ  زندہ جانوں کا  ہو۔  ارن دھتی رائے بھی سچ کے متلاشیوں میں سے ایک تھی۔ جو کھوٹے کو کھرے سے الگ کرنے کی سوچ رکھتی ہے، اور اس کے لئے ہمت بھی۔

ارن دھتی سچ کو اپنی آنکھوں سے  مشاہدہ کرنا چاہتی تھی۔ وہ ان کے دلائل، ان کی منطق اپنے کانوں سے سننا چاہتی تھی۔  انہیں جانچنے، پرکھنے اور سمجھنے  کے لئے، ان کی نفسیات پڑھنے کے لئے، ان کا رہن سہن دیکھنے کے لئے، ان کی سوچ، ان کے خیالات اور  ان کے جذبات جاننے کے لئے  ان کے پاس پہنچ گئی۔
اس کے بائیس دن کا سفر جنگل کنارے سے شروع ہوا ۔ جو گھنے  درختوں کے تاریک سائے  سے ہوتا اونچے نیچے رستوں پر چلتا، دریا کی لہروں پر ہچکولے کھاتا کسی گائوں کی پگڈنڈی تک پہنچ جاتا ہے۔ کبھی کسی آدی واسی کی جھونپڑی تک، اس کے چولہے سے اٹھتے دھویں کی لکیروں میں  زندگی کی بےثباتی کو جاننے کی کوشش کر رہی تھی۔ کسی علاقے کے سکول میں پڑھتے بچوں  تک، ان کی آنکھوں میں جھانکتے ، ارن دھتی حقیقت تلاشنے کی سعی میں مصروف تھی۔  ان قبائلیوں کے کندھوں سے لٹکتی بندوقوں کے دھانوں سے جھانکتے بھیانک حقائق،  جو  وسطی شہروں کے اے سی لگے کمروں میں ، ٹی وی پر میکاپے چہروں والی نیوز کاسٹر، اور جھریوں کو چھپائے چیختے چنگاڑتے تجزیہ نگاروں کی زبان سے کبھی سمجھ نہ آسکیں.وہ ان کہی سچائیاں جو اپنا آپ  ظاہر کرنے کو بے تاب لیکن کوئی نظر ہی نہیں، جو دیکھ سکے۔ کوئی صاحب نظر ہی نہیں جو پرکھ سکے۔


بقیہ حصہ وقفے کے بعد۔


Flickr