Saturday, September 28, 2013

امن کی آشا بھو


دو سہیلیوں کی مدتوں بعد ملاقات ہوئی۔ حال احوال پوچھا اور بیٹھ کر دکھ درد بانٹنے لگیں۔ ایک نے پوچھا
چنو! بتا دوسرا میاں کیسا ہے۔
دوسرا میاں! چنو نے حیرت سے جوابی سوال داغا۔
ھاں تیری اپنے پہلے خاوند سے ان بن ہوگئی تھی، طلاق کا کیس چل رہا تھا ناں۔
چنو نے تاسف سے جواب دیا۔
نہیں طلاق نہیں ہو سکی، لیکن بیس سال سے میں ماں باپ کے گھر ہی ہوں
اچھا! پھر یہ  چھ بچے کیسے ہو گئے۔
سہیلی نے حیرانی سے پوچھا۔
چنو شرماتے ہوئے بولی۔
"وہ  کبھی کبھار منانے بھی آ جاتے تھے"

درج بالا لطیفے کا درج زیل بیان سے کوئی تعلق بنا تو مجھے بھی بتائیے

کامران خان ساب فرما رہے "تمام معاملات کو ایک طرف رکھیے اور تجارت آگے بڑھائیے"

جیو والے "مال" کی لسٹ بھی بتائیں جو بھجوایا جا سکتا اور منگوایا جا سکتا۔


Friday, July 12, 2013

یا ابن تاشفین

اس بوڑھے کی نیند اڑی ہوئی تھی۔ روح کی بے چینی آنکھوں سے عیاں تھی۔ دل کا کرب ماتھے کی سلوٹوں سے کوند رہا تھا۔ جب سے اسے خبر ہوئی  تھی کہ ظالم الفانسو نے اس کے کلمہ گو بھائیوں کی بستیاں اجاڑ دی ہیں۔ مائوں  کی چادر یں، بہنوں کی ردائیں اور بیٹیوں کےآنچل محفوظ نہیں۔ بزرگوں کی پگڑیاں اچھل رہی ہیں اور نوجوانوں کو زبح کیا جا رہا اس کا چین آرام سب اتھل پتھل تھا۔
جس عمر میں قوی مضمحل ہوتے ہیں۔ عمر بھر کی تھکاوٹ چہرے کی جھریوں سے عیاں ہو رہی ہوتی ہے۔ گھوڑے کی پیٹھ کی بجائے نرم بستر کی گرمائش دل کو بھاتی ہے۔ وہ اپنے روحانی جد ابن  زیاد کی پیروی میں  ٹھنڈے ٹھار موسم کا سامنا کرنے سمندر پار جا پہنچا۔
وہی جبل الطارق جہاں چار صدیاں قبل  مٹھی بھر جانبازوں نے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر  کشتیاں جلائی تھیں اور تاریخ عالم کو ورطہ حیرت میں گم کیا تھا۔ وہی اندلس جس کے مرغزار اور حسین وادیاں چار سو سال سے مسلمان مجاہدین کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے  بہت مانوس رہے تھے ۔   لیکن اب انگور کے  خوشوں کی لذت، اندلس کے ٹھنڈے میٹھے چشموں کے پانیوں کا لطف، لانبی گھنیری زلفوں کی چھائوں اور مرغزاروں  میں جھلنے والی باد نسیم نے طارق بن زیاد کے روحانی جانشینوں کو خوابیدہ کر دیا تھا۔
شیرازہ خلافت بکھر چکا تھا۔ سلطنت اندلسیہ زوال پذیر  اور   مسلم علاقے عیسائی حکمرانوں کے باج گزار بن کر رہ گئے تھے۔ بٹی ہوئی مسلم ریاستیں الفانسو کے لئے تر نوالہ ثابت ہو رہی تھی۔ اک ایک کر کے عیسائی فرمانروا ،  اسلامیوں کے علاقے ہڑپتا جا تا۔ اور مسلمان حکمران اپنے آپ میں مگن۔ مرد کوہستانی کی نایابی پر قدرت نے بندہ صحرائی کو چنا۔قشتالہ کا الفانسو  ایک لاکھ بیس ہزار کا ٹدی دل لشکر لے کر  مسلمانوں کی حکومت کو نیست و نابود کرنے کے ارادے سے نکلا۔ ۔   ادھر چھہتر سالہ شیر اپنے بیس ہزار لشکریوں کی ہمراہی میں محاز کی جانب لپکا۔   آسمان کتنی بار امتحان لے چکا۔ اللہ کے شہروں کو کبھی روباہی نہیں آئی۔ ایک سات پر بھی بھاری رہا۔ اب کی بار بھی عرصہ امتحان کا تھا۔ ایک کے مدمقابل چھ۔ 
باداجوز کے مقام پر میدان سجا ہوا تھا ۔ الفانسو  کو  ابن تاشفین کا پیغام بھجوایا جا چکا تھا۔  اللہ کی بندگی میں آ جائو۔ جزیہ دو یا  پھر  فیصلہ میدان میں ہو گا۔الفانسو تو اس سے قبل  ہی اپنا  سندیسہ بھجوا چکا تھا۔ جب اس نے تکبر اور نخوت کی سیاہی میں قلم ڈبو کر خط لکھوایا تھا۔ " میرا مقابلہ تم کیسے کر سکتے ہو۔ خود خدا بھی فرشتوں کو لے کر زمین پر اترے تو مجھ سے شکست کھا جائے"۔ اور جوابا  مسلم  سپہ سالار نے خط کے پیچھے فقط اتنا لکھنا گوارا کیا۔ میدان سجائو۔ جو زندہ رہا دیکھ لے گا۔"
سو الفانسو نے حملہ کر دیا۔
آفتاب  بادلوں کی اوٹ سے تلواروں کی چمک اور جند اللہ کے جانبازوں کے چہروں کی دمک دیکھ رہا تھا۔  حزب الشیطان کی قوت کا کوئی تول نہ تھا۔ لیکن اللہ کے شیر اپنے جذبوں کو کندن بنائے، اپنے رب سے اجر عظیم کی امید میں حوصلے جواں کئے مقابلے میں آ گئے۔ اسلامیوں کا لشکر دو حصوں میں تقسیم تھا۔  الفانسو کا سامنا پہلے گروہ سے ہوا ۔ عباد ثالث المعتمد کی قیادت میں اندلسی فوجوں نے اپنے جوہر دکھانے شروع کئے۔  مسلمان مجاہد ایک ایک کر کے کٹ رہے تھے۔ مخملیں گھاس سے مزین زمین لہو سے تر ہوئی جا تی۔ گھوڑوں کی ہنہناہٹ، تلواروں کی جھنکار اور جنگی نعروں سے سرد موسم میں بھی ماحول آتشیں تھا۔  پھر مسلمانوں کے قدم پیچھے ہٹنے شروع ہوئے۔ لشکر اسلام میں سراسیمگی پھیلنے لگی۔  جوں جوں سورج  کی تپش بڑھ رہی تھی۔ عیسائی فوج کی یلغار میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔  فلک  چپ سادھے دیکھ رہا تھا۔ چار سو سال بعد اندلس مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل کر ظالموں کی جھولی میں گرنے والا تھا۔ تاریخ کا دھارا بدل ہی جاتا لیکن اللہ کی تدبیر کچھ اور ہی ہوتی ہے۔ یوسف بن تاشفین افریقہ کے تپتے صحرائوں سے اٹھ کر سمندر پار  سیاحت کو ہر گز نہ آیا تھا۔ بصیرت سے معمور اس مجاہد نے جب دیکھا کہ دشمن کی فوج فتح کے نشے سے مخمور ہوئی جا رہی ہے۔ اور تھکن سے چور مزید جنگ لڑنے کی آرزو مند نہیں۔ اس نے اپنے لشکر کو حملے کا حکم دیا۔ تازہ دم اسلامی بجلی کی سی لپک سے میدان میں موجود اپنے بھائیوں سے جا ملے۔ پھر جذبے تلواریں بن گئے۔ حوصلے نیزوں کی طرح دشمن کے سینوں میں پیوست ہونے لگے۔ چشم فلک نے یہ منظر بھی دیکھا کہ ایک ایک مجاہد نے  بیس بیس دشمنوں کی گردنیں ناپ لیں۔ لشکر کا سالار خود بھی چھپٹتا، پلٹتا، پلٹ کر چھپٹتا اور  مجاہدین کا لہو گرماتا جاتا۔ اس بوڑھے  مجاہد کی تلوار بجلی کی طرح کوند رہی تھی۔ اس کے دل و دماغ میں وہی الفاظ گونجتے۔"اے رب کریم  اگر تیرے مٹھی بھر نام لیوا مٹ گئے تو پھر اس سر زمین پر تیرا نام لینے والا کوئی نہ ہو گا۔" اسے قلیل شیروں کے ساتھ ہزارہا بھیڑیوں کو قابو کرنا تھا۔    وہ  لڑائی کے عین بیچ گھوڑا دوڑاتا جاتا اور اپنے مجاہدوں کو پکار پکار کر آگے بڑھنے کی تلقین کرتا۔    کشتوں کے پشتے لگتے رہے۔ لہو بہتا رہا۔ الفانسو کے لشکری کٹ کٹ کر گرتے رہے۔ نئی تاریخ رقم ہوتی رہی۔   مسلمانوں کے ہاتھ سے پھسلتا اندلس بہادروں کے مضبوط حصار میں تھا۔ مورخین نے اس میدان کو  "زلاقہ"  (پھسلن والی زمین۔ خون کے بہنے کی وجہ سے  لشکریوں کا زمین  پر قدم جمانا مشکل  ہو رہا تھا) کا نام دیا۔  لیکن الفانسو کے ہاتھ ایک کامیابی لگی۔ وہ اپنی ایک کٹی ٹانگ اور پانچ سو وفاداروں کے ہمراہ بھاگنے میں کامیاب ہو گیا۔ یوسف بن تاشفین  کی حوصلہ مندی اور مجاہدین کے جذبے نے تاریخ کے پہیے کو چار صدیوں کے لئے روک دیا۔ چار سو سال اندلس کی چوٹیوں پر مسلمانوں کا پھریرا لہراتا رہا۔ ایک مجاہد رہنما کی بے آرامی کی بددولت مسلمانان اندلس چار سو سال سکون کی نیند سوتے رہے۔

Tuesday, July 2, 2013

اچھو ان جدہ

ہیں جی!  اور گڈی شٹارٹ۔
۔ سفید موتیوں والے دندان ، چم چم لشکارے مارتے سامنے  بندے کو دندان شکن جواب دینے میں کام آتے۔  شخصیت کا پہلا "سفید"  تاثر یہی تھا۔ اپنا رنگ تو جوں چراغ تلے ہوتا ہے۔ لیکن اتنا بھی گہرا نہیں زرا سرمئی سا۔ مناسب سی رفتار سے دھیمے انداز کی گفتگو۔ لیکن ٹو  دی پوائینٹ، یہ اور بات کہ پوائینٹ  " اسلامآبادی  زیرو پوائینٹ سے لے کر  سرائکی  ملتان " تک پہنچ جائے۔ ملتانی مٹی اور چینی ظروف کمال کا سنگم  تھا  ۔ بتلانے لگے کہ چین میں کھلونوں کا کاروبار ہے۔ حد ادب مانع رہا ، ورنہ پیٹ میں مروڑ اٹھتے ہی رہے کہ عرض گزار ی کروں۔ "حضرت کھلونے بچوں کے یا بڑوں والے!"
اس سے قبل کئی سال صحرائے نجد کی خاک چھانی، حیرت ہے گرمی اور گردا  تو ملتان میں بھی مل جاتا۔ عرب کی آب و ہوا کا اثر ہے کہ عربی فر فر بولتے ہیں۔ فون پر کسی سے گفتگو فرما رہے تھے اور ناچیز کو پی ٹی وی  کا رات بارہ بجے "الاخبار" پڑھنے والا یاد آ گیا۔
لیکن بولنے سے  بھی زیادہ سمجھتے ہیں۔ اسی لئے اردو خوانوں کو عربوں کی سمجھداری گھول کر پلاتے ہیں۔
گول مٹول  زرا چھوٹے سے،  دل ہی دل میں شکر ادا کرتا رہا کہ محفل میں کوئی تو کسی حساب میں مجھ سے کم  ہے۔
بندہ    سکول   بیٹھا نہیں  ، واقعی پڑھا ہے۔  بات چیت میں "میتھ میٹکس"  کی مشقوں جیسے مثال بھی لازمی ساتھ ہوتی۔  بہت مددگار اور کام آنے والے انسان ہیں۔ فون میں موجود  تمام تصاویر میں حضرت  ،خواتین کو سہارا دیتے نظر آ رہے تھے۔   جناب  ظاہرا  دیسی اسٹائل ہونے کے باوجود  صنف نازک کو بہت احترام بخشتے۔  ۔ حتی کے کھانے میں بھی   مونث  "بھنڈی"  پسندفرماتے۔
آدمی    محنتی نظر آیا اور اس کا سب سے بڑا ثبوت ہر پانچویں مہینے مکہ کا چکر ہے۔ پانچ مہینوں میں "نو سو" کی گنتی  مکمل کرنا خالہ جی کا گھر تو نہیں ناں! اب معلوم نہیں یہ "چینیوں" کی صحبت کا اثر ہے یا بچپن کی عادت۔
جدہ کے موسم سے بخوبی آگاہی تھی، تبھی سفید ساٹن کا کی کھلی ڈھلی شلوار قمیص پہن رکھی تھی۔ تا کہ ہوا لگتی رہے۔   اپنے کپڑے یقینا دھوبی کے پاس رکھ چھوڑے ہوں گے۔
آئی فون کے علاوہ  چوتھی سفید ی ان کی ریش میں تھی۔ باریش اور بے ریش کے بین بین "بی ریش" ٹائپ کی۔ اور اس کے متعلق  توضیح بھی فرمائی کہ یہیں تک ہے ۔ چینی حدود میں داخلے  کے وقت رگید دی جائے گی۔ وہاں کی  عوام کو شاید باوقار چہرہ پسند نہیں یاموصوف  دوستوں کی چھبن کا خیال کرتے ہیں۔
جی دار اور پر مزاح ، ہر بات پر مسکرانا لازمی سمجھتے ہیں ،   رونے والی بات پر قہقہ لگاتے ہیں۔
گھر والوں کا ایک آدھ بار زکر خیر فرمایا جیسے جیل سے چھوٹا قیدی جیلر کو یاد کرے۔

مسکین سی شکل بنائے سامنے بیٹھے ملتانی  اچھو کے ماتھے پر صاف لکھا تھا۔  سیدھا اور سادہ  ، تیسری ملاقات میں لاکھ  دو لاکھ  ادھار مانگ لو۔ روپے ملیں نہ ملیں ، ناں! نہیں ہو گی۔ 

Tuesday, June 11, 2013

بدنامی

حضور! حضور! ہم سے کیا غلطی ہوئی؟ کیا رات والا مجرا جناب کو پسند نہ آیا؟
جناب کی حساس طبعیت پر کہیں " طبلے" کی تھاپ تو گراں نہیں گزری!
کہیں ایسا تو نہیں پازیب کی جھنکار نے کانوں میں ناگوار احساس کو بیدار کیا ہو!
یا پھر گھنگھروئوں کی  آواز حضور پر بھاری ہو!
ہمارے ٹھمکوں میں کوئی کمی رہ گئی؟
آواز کی لوچ صحیح نہ تھی!
پان کی گلوری میں چونا زیادہ تو نہ لگا دیا موئی نے!
راگنی نے حضور کے مزاج کو افسردہ تو نہ کر دیا!
کیا موئی نے خوشبو لگا رکھی تھی؟
اف یہ گرمی۔ حضور کہیں پسینے کی بو تو ناگوار نہیں گزری؟
اے ہے! کیا معلوم  کم بخت نے کمریا کو لچکایا بھی کہ نہیں۔
ہماری لونڈیا کی خؤش لباسی میں کوئی شکن تو نہ رہ گئی؟
حضور! بتائیے ناں۔
فانوس کی روشنی تو کہیں آنکھوں کو چھب نہ گئی ہو!
اے   سرمیلے!
گائو تکئے کو دیکھ زرا۔ کہیں کوئی تکلیف دہ شے تو نہیں گھسی اس میں۔
اور ہاں نشست کو بھی اچھی طرح جھاڑیو!
حضور۔ ہماری بدنصیبی جو آپ کا مزاج بھاری ہو گیا۔ ورنہ ماں قسم ہم نے تو اپنی سی کسر نہ چھوڑی آپ کی خوشی کے لئے۔
"حضور" (گہری سوچ سے چونکتے ہوئے۔
اوں! کیا ہوا زہرہ بائی؟ کیا بڑبڑائے جا رہی ہو؟
حضور! آپ کا وہ لونڈا ہے ناں، وہ کیا نام اس کا ۔ ارے وہ سرخ بالوں والا۔
سارے شہر میں ڈھنڈیا پٹوا رہا کہ ہم کوٹھے  کے لئے مجرے کا سامان اس سے خریدتے۔
"حضور"، تو کیا ہوا؟ اس سے خرید لیا کوئی فرق پڑا؟

نہیں حضور! لیکن کوٹھے کی بدنامی ہوتی ہے۔

ہماری جنگ، پیاری جنگ

سن 2004  کا مارچ۔  ہلکی ہلکی سردی  ،لیکن ماحول الیکشن کی گہما گہمی سے گرم۔ ماہرین، مبصرین اور تجزیہ نگار اس بار بھی پیپلز پارٹی کے جیتنے کے  سو فیصدی امکانات ظاہر کر رہے تھے۔ سیاسی پنڈت  پیپلز پارٹی آف اسپین کے پچھلے ٹریک ریکارڈ ، معاشی پالیسیوں، عوام دوست اقدامات کو دیکھتے ہوئے سوشلسٹ پارٹی کے جیتنے کے لئے بہت کم نمبر دینے کو تیار تھے۔
گیارہ مارچ 2004 اسپین کے عام ا نتخابات میں فقط تین دن باقی تھے۔ لوگ بے چینی سے ووٹنگ والے دن کا انتظار کرتے ہوئے ،  سیاسی تقریروں، مباحثوں اور ٹی وی پروگراموں  کی جانب   متوجہ تھے ۔  میڈرڈ کے ریلوے اسٹیشنوں پر قیامت ٹوٹ پڑتی ہے۔ یکے بعد دیگرے بم دھماکے۔ تباہ شدہ ریل گاڑیاں، جلے کٹے جسم۔  ایک سو نوے لاشیں اور ہزار کے قریب زخمی۔ سارا اسپین سوگ میں ڈوب جاتا ہے۔   مباحثوں کا رخ دھماکوں میں ہوئے جانی نقصان ، اس کی وجوہات اور اس کے پیچھے موجود ہاتھ تلاشنے کی طرف مڑ جاتا ہے۔  الزام القائدہ پر لگایا جاتا ہے۔ اور وجہ ہسپانوی دستوں کی عراق میں موجودگی۔سوشلسٹ پارٹی والے اعلان کرتے ہیں  کہ برسر اقتدار آتے ہی عراق سے اپنے فوجیوں کو واپسی کا حکم دیں گے۔ 14 مارچ کو مقررہ تاریخ پر انتخابات ہوتے ہیں اور سیاسی نجومیوں کی تمام تر پشین گوئیوں کے برعکس سوشلسٹ پارٹی بھاری اکثریت سے انتخابات جیت جاتی ہے۔ ماہرین جیت کی وجہ فقط عراق سے فوجیوں کی واپسی کے اعلان کو قرار دیتے ہیں۔   یاد رہے کہ اس سے تین مہنے قبل عراق میں سات ہسپانوی سپاہی بم دھماکے میں اپنی جان سے ہاتھ دھو  چکے تھے۔
پیپلز پارٹی کی تمام تر بہترین کارکردگی کے باوجود ہسپانوی عوام نے فقط آخری  پلوں میں  ایک بم دھماکے کی زمہ داری اس حکومت  پر ڈالی اور انہیں بری شکست سے دو چار کر دیا۔
سوشلسٹ پارٹی کاوزیر اعظم دوسرے دن اعلان کرتا ہے کہ عراق سے تیرہ سو فوجیوں کی واپسی کا حکم جاری کر دیا گیا ہے۔
امریکہ، نیٹو، یورپی یونین، اتحادی، دوست اپنی سی کر کے دیکھ لیتے ہیں، دھونس، دھمکیاں، پابندیوں کی باتیں۔ لیکن ہسپانوی حکومت کا ایک ہی جواب " جنگ ہماری نہیں، ہم کیوں مفت میں اپنے بندے مرواتے پھریں"۔ جائو! جو کرنا ہے تم کرو"۔
یوں اسپین نے اپنے تمام نیٹو ، یورپی اتحادیوں، دوستوں کی ناراضی مول لی لیکن صرف ایک سو نوے بندے مروا کر سدھر گیا اور عراق سے اپنے لونڈے واپس بلوا لئے، دہشت گردی کی جنگ کے متعلق اپنی داخلہ و خارجہ پالیسی میں بہت ساری تبدیلیاں کر ڈالیں۔
اور ایک پاکستانی قوم ،ایک لاکھ کے قریب بندہ مروا لیا۔ اربوں کا نقصان کروا لیا۔ لاکھوں اپاہج ہو گئے۔ ملک کا دیوالیہ نکل گیا۔ "گھر آٹا نہیں اور امان دانے پسوانے گئی" والا حساب ہو رہا لیکن  کوئلوں کی دلالی میں ایسا لطف آ رہا کہ  پرائے چولہے کی آگ کو اپنے بستر پر رکھ کر ہلارے لے رہے۔
معلوم ہی نہیں کہ جنگ کہاں سے شروع ہوئی! کس نے شروع کی! کیوں شروع ہوئی! ایک لاکھ (اف خدایا! ایک لاکھ کی گنتی گنتے بھی سانس پھول جاتی) انسانوں کو کھا گئی "ہماری جنگ"۔ لیکن نہ سر نہ پیر! نہ منہ نہ متھا۔
شاید اس بار سوئی قوم نے اس "ہماری جنگ" کے خلاف بھی فیصلہ دیا ہے اور پچھلے تمام "گندے انڈوں" کو اٹھا کر باہر گلی میں پھینک دیا ہے۔ نئی حکومت کو جہاں معاشی مسائل، بجلی، گیس، مہنگائی کے معاملات حل کرنے کا مینڈیٹ ملا ہے وہاں بجا کہ خارجہ و داخلہ پالیسیوں سے ستائی قوم نے ان "امور" کی تسلی بخش بہتری کے لئے بھی ووٹ ڈالا ہے۔ نون لیگ ، جماعت اسلامی، پی ٹی آئی، جے یو آئی، یہ تمام جماعتیں اس "ہماری جنگ" کو پرائی جنگ سمجھنے والی جماعتیں ہیں اور اس کا حل گفت و شنید، مذاکرات اور بات چیت میں تلاشنے کی پالیسی کے بیانات داغتی رہی ہیں۔  اب اللہ کرے کہ  میاں نواز شریف ساب بھی "جوز لیوس" ( 2004 کا ہسپانوی وزیر اعظم) کی طرح دلیرانہ، جرات مندانہ اور حقیقت  پر مبنی قوم کی امنگوں کے مطابق اس جنگ سے " خروج" کا فیصلہ کریں۔ ہم دعا گو ہیں کہ "پھجے کے پائیوں"  میں وہ غیرت موجود ہو جس کی ایسے فیصلوں کے لئے اشد ضرورت ہوتی ہے۔

بیکار کی بیگار سے جان چھڑا کر کم از کم اپنے بندے تو مرنے سے بچائیں۔ طالبان سے مذاکرات کرنے ہیں یا لڑائی کرنی ہے بعد کی بات لیکن اس میں تو دو رائے نہیں کہ "ہماری جنگ" نے ہی ہمیں اس مقام پر لا کھڑا کیا کہ ہمارا بدن چور چور اور انگ انگ  زخمی، اور زخم زخم رس رہا ہے۔

Thursday, May 30, 2013

مولبی مرنڈا۔

ٹویٹر پر  اک دوجے کا پیچھا کیا۔  جدہ  آنا ہوا تو  نمبر مانگ لیا۔ انہوں نے عربی میں لکھ کر  دے بھی دیا۔ فون  مِلایا تو کوئی بنگالن بول رہی تھی۔ دل بڑا دکھی ہوا۔ اس لئے نہیں کہ ٹویٹر والے  کا  نمبر غلط نکلا   ،بلکہ اس لئے کہ فون والی بنگالن تھی۔  اپنے نصیب !   بعد میں غور کیا تو  عربی کا چار ہم تین سمجھتے رہے۔   خیر ٹویٹر پر ہی ڈی ایمتے رہے۔  پھر فیس بک پر بھی ایڈ کر لیا۔ سرکار کو بھی پیروکار کی حالت پر رحم آیا اور عزیزیہ کے ایک ہوٹل پر  پہنچنے کا حکم صادر کیا۔  ہم نے بھی دفتر سے جان چھڑائی اور ٹیکسی پکڑے مہران ہوٹل کے باہر  لنگر انداز ہو گئے۔ تھوڑا انتظار اور محترم سامنے سے تشریف لاتے دکھائی دئیے۔ ایک ہی نظر میں پہچانے گئے۔۔ سر مبارک ناک کو  بڑھ بڑھ کر چوم رہا اور ماتھا بیچ سے غائب! چہرہ لمبوترا سا۔ ناک متناسب۔ گال پچکتے پچکتے بچے ہوئے۔ کان اپنی جگہ پر۔ داڑھی نے چہرے کو باوقار بنا رکھا۔ چہرے کی نورانیت اور سر کی عریانیت مل ملا کر  شخصیت کو جمال  اور وجاہت بخش رہی تھیں۔  "فارغ البالی" میں" اپنا" مستقبل کا نقشہ سامنے دکھ رہا تھا۔
گلے ملتے ہوئے ایڑیوں کا ممنون ہونا پڑا لیکن پھر بھی اپنا سر محترم کے سینے تک ہی پہنچ سکا۔ ہم نے بھی دو دھڑکنوں کو گن کر کان پیچھے کر لئے۔لیکن مصافحے میں گرمجوشی، اور چہرے پر تھکاوٹ کے اثرات کے باوجود  خلوص جھلک رہا تھا۔  کچھ دیر بیٹھ کر گپ شپ لگائی، حال احوال سے آگاہی لی ،  جناب نے کھانے کا پوچھا ، ہم نے ناں کی اور بس۔  وہ تو شکر کہ واقعتا بھوک نہیں تھی ورنہ  دوسری بار نہ پوچھنے کے باوجود  کہے دیتے ۔" کچھ منگوا ہی لیتے ہیں"۔ چائے پی گئی اور رخصت طلب کر لی۔ تیسرے دن کھانے کا  معاملہ ٹھہرا۔  حضرت کی نظر انتخاب کسی ترکش ریسٹورنٹ پر ٹھہری۔ اور ہم بمطابق حکم پہنچ گئے۔  منہ سے تو بس ایک آدھ بار ہی توصیفی کلمات پھوٹ سکے۔ لیکن ہمارا دل زبان کے ساتھ ساتھ  کھانے کی لذت اور ذائقے کی داد دیتا رہا۔ بھائی جان کھانا اتنا ہی کھاتے ہیں جتنا پیٹ میں آسکے اور پیٹ کا حجم کسی انگریزی فلم کی حسینہ سے زیادہ نہیں۔   اس پیٹ نے بیلنس رکھا ہوا ۔ ورنہ شاید "ادھر چلا میں ادھر چلا" والا حساب ہو جو  زرا  ہوا چلے۔   
  پرسوں  تیسری ملاقات تھی۔ تین ملاقاتوں کے دوران  مولبی ساب کے گھر سے چار دفعہ فون کیا گیا ہو گا۔ مولبی ساب تاثر تو یہی دیتے رہے کہ سب خیریت ہے لیکن نجانے ہمیں کیوں محسوس ہوتا رہا "جیسے دوسری طرف سے کہا گیا ہو۔ "دروازہ بند ہو چکا۔ اب رات گاڑی میں بسر کر لینا"۔   بندہ  شرافت کا نمونہ اور   انتہائی نفاست پسند ہے، کپڑوں سے لگ رہا تھا کہ اپنے ہاتھ سے دھلائی بھی کئے  ہیں اور استری بھی۔ گفتگو سے اندازہ ہوا کہ موصوف صرف اطاعت پسند شوہر ہی نہیں تابع فرمان "ابے" بھی ہیں۔ اس کا ایک ثبوت بچوں کی وہ سائیکل  بھی تھی جو کبھی پچھلی نشست اور کبھی  ڈِگی میں سنبھالی جا رہی تھی۔
دانتوں کو ایسا رنگا ہوا گویا پان "پیک بغیر پھینکے" کھانے کے عادی ہو۔ یا پھر گھر والی کی نشانہ بازی کے دوران لگنے والا زخم رنگت چھوڑ گیا ہو، یہ بھی عین ممکن کہ بچوں کی ٹافیوں کا چسکا لیتے لیتے سفیدی کو  بھورا کر لیا ہو۔  بندہ معصوم بھی تو بچوں جیسا ہی ہے۔ وہی معصومیت بھرا شریر لہجہ،  بولتی ہوئی آنکھیں، زرا زیادہ ہی باہر کو نکلی ہوئیں کہ کسی کو گھور کر دیکھنے سے آنکھیں باہر گرنے کا اندیشہ ہو سکتا۔   مردانہ ہونٹوں کی تعریف ہم حیا کے تقاضوں کے خلاف سمجھتے ہیں اس لئے ان کا زکر خیر  رہنے دیتے ہیں۔ کراچی والوں کا مخصوص دلپذیر  لہجہ، نستعلیق اور  مرصع ، مرقع۔  نہ  مولویوں والی بناوٹ اور نہ کالجی منڈوں جیسی  شو بازی۔ ہوتی بھی کیسے موصوف  عمر کی اتنی بہاریں دیکھ چکے کہ اب تسبیح ہاتھ میں  رکھنے کا حق بنتا ہے۔  شوخی لیکن سادگی کی مٹھاس میں لپٹی ہوئی۔ گفتگو شروع ہوئی تو کہاں سے کہاں جا پہنچے۔ محسوس ہی نہ ہوا  بلمشافہ تیسری ملاقات ہے۔ تبلیغوں والی انکساری، عاجزی بدرجہ اتم موجود تھی۔ لیکن عجیب ہوا کہ  ایک اصیل  مبلغ اور ایک کاٹھے تبلیغی کی ملاقات کے دوران نہ چھ نمبروں کی بات ہوئی نہ ایک دوجے کو  دعوت دی گئی۔ یہ تکلفات اپنوں میں تو نہیں چلتے ناں۔ اور ہاں محترم ہیں پورے "گھُنے"،  یقین نہ آئے تو ان کی اپنی پوسٹ بنام " 2 جنوری" پڑھ لی جئے۔

Thursday, May 23, 2013

سماجی سیاپے!


 

یا حیرت! پنج ست مرن گوانڈناں تے رہندیاں نوں تاپ چڑھے۔ معاشرے میں جو جرم ہو رہا زمہ دار مولوی ہے?

اس سماجی  ڈھانچے کی جو بھی کجی ،کوتاہی ہے اس کی وجہ مُلا ہے۔لسی میں پانی ملائو اور لمبا کرکے پلاتے جائو کسی ایک آدھ کو تو نیند کا جھونکا آئے گا ہی۔ کوئی تو "نمونیا" کا شکار ہو ہی جائے گا۔ اگ اسمانے چڑھی پتنگ کی ڈور طرح جھوٹ کو بھی ڈٰھیل دیتے جائو، اتنا کذب پھیلائو کہ رگ و پے میں رچ بس جائے، سچائی چھپ نہ سکے تو اس کا چہرہ مسخ کر دو، اتنا غبار اٹھا دو کہ گرد ہر سفید، اجلے دامن کو داغدار کئے بغیر نہ چھوڑے۔ یہ فلسفہ صدیوں سے رائج ہے۔ قرنوں سے عمل ہو رہا اس پر۔ برصغیر میں انگریزی مہاشوں کی آمد کے بعد اسلامیان ہند کو اپنی جڑوں سے کاٹنے کے لئے اسی "جھوٹ سبیل" کا ٹھنڈا میٹھا پانی رج رج کے پلایا گیا۔ حق اور سچ کی مخالفت میں کیا کیا طریقے نہ اپنائے گئے۔ کیسی کیسی پروپگینڈہ مشینیں دن رات کذابوں کو ہیرو اور ہیرو کو زیرو بنا کر پیش کرنے کے لئے چلتی رہیں۔ اور پھر تقسیم ہند کے بعد انہیں مشینوں کے پر پرزے رپئیر کر کر۔ ملمع لگا، تیل پانی ڈال تیار کر دیا گیا،ایسی ٹھیٹھ "ولیتی" مشینیں کہ دہائیوں بعد بھی دوڑ رہی ہیں، نہ ہانپی نہ کانپی، بلکہ انڈوں بچوں کے زرئعے بڑھتی ہی جا رہی ہیں، شام ہوتے ہی "میکاپے" چہروں کے ساتھ مائیاں سیاپا کرنے مربع ڈبے میں سج دھج کر بیٹھ جاتی ہیں، اور پھر ہر تان آ کر ٹوٹتی ہے "مذہب پسندوں" پر، ہر "لے" بس کرتی ہے دینداروں کی کسی خرابی پر۔ ڈسکشن کا دورانیہ ختم ہوتا ہے کسی مولانا کے زکر خیر پر۔ موضوع سخن کوئی سا بھی رہے۔ ٹاپک جیسا بھی ہو، وجہ بحث جو مرضی ٹھہرے لیکن غریب ملا  کا زکر کئے بغیر محفل میں گرمی نہیں آتی۔ ڈاکٹروں کی ہڑتال، صلواتیں مولوی کو، سڑک ٹوٹ پھوٹ کا شکار گالیاں مولوی کو، بجلی کا بحران، سب و شتم کا حقدار مولوی، روپیہ کی قیمت بڑھ جائے یا سونے کا بھائو گر جائے میرے ٹی وی پر بیٹھے انٹیلاکچولز کی سوئی مولوی پر ہی اٹکتی ہے۔ بیل کے "ٹل" کی طرح لٹکتی ٹائیاں پہن کر کیمرے کے سامنے بیٹھے جغادری فنکار ملا کے زکر خیر کے بغیر اپنا پروگرام مکمل کر ہی نہیں پاتے، پان ذدہ دندانے تیز کئے "وہی لہجے جو پنواڑی کے کھوکھے پر روا ہو سکتے" ٹیلیویژن سکرینوں پر بولے جاتے اور پھر عوام الناس کو زہنوں میں انڈیلا جاتا کہ ہر فساد کی جڑ ملا ہے، ہر بیماری کی وجہ مدرسہ ہے، ہر مصیبت و ابتلا مولوی کی بنا پر اتری ہے۔ (لیکن استثنائی صورت بھی ہے تیر و تفنگ کا رخ ایسے زاوئے سے سیٹ کیا جاتا کہ "خاص بندے" کبھی زد میں نہیں آتے۔ اور کسی "علامہ" کی طرف رخ سخن تو گناء عظیم شمار ہو گا)۔ قوم کو بتایا جاتا کہ ملا ہی قوم کو تقسیم کئے بیٹھے ہیں، ملا ہی ملت کے فرقے بنائے بیٹھے، مسلک کے نام ہر دھڑے بندیاں کئے ہوئے ہیں، گروہوں میں بانٹا ہوا عوام کو۔ اس زہرناک پروپگینڈے نے ایسی  اثرپزیری  دکھائی ہے کہ ہر کس و ناکس اب مولوی کو برا بھلا کہنا فیشن کا حصہ سمجھتا ہے۔ کہ ایسا نہ کیا تو دقیانوسی کہلایا جاوے گا۔ یا حیرت!

حسرت سی حسرت ہے کہ کبھی کوئی صاف نیت بندہ اینکری کرنے کی بجائے ملا کے اس معاشرے پر احسان بھی گنوا دے۔ اور عوام سے سوال کرے۔ سندھیوں کو اردو والوں سے لڑانے والے ملا ہیں? پنجابیوں سندھیوں میں نفرتیں بڑھانے والے ملا ہیں? پٹھانوں مہاجروں کو مروانے والے ملا ہیں? ہزارہ وال پختون کا جھگڑا شروع کرانے والے ملا ہیں? سرائکی وسیب سے"تخت لاہور" کو گالیاں دلوانے والے ملا ہیں? لیگوں کی سنچریاں ملا نے بنا رکھی ہیں? پارٹیوں کی لائنیں ملا نے لگا رکھی ہیں? تحریکوں کے جھمگٹے مُلا  نے لگائے ہوئے? اس سماج میں ایک سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے  دوسری جماعت والوں کے ہاں رشتہ نہیں لیتے دیتے زمہ داری کس کی? اس معاشرے میں ایک سیاسی امیدوار کو ووٹ دینے والے مخالف امیدوار کے سپوٹروں کی موت مرگ میں شرکت نہیں کرتے۔ گناۃ گار مسجد کا خطیب ہو گیا? انہیں علاقوں میں سیاسی بنیادوں پر سینکڑوں ہزاروں لوگ موت کے منہ میں چلے جاتے۔ جرم کسی مدرسے والے کے سر? الیکشن ڈرامے کے دوران گائوں کے گائوں ڈانگ ڈنڈا لے کر ایک دوجے پر پل پڑتے کیا کوئی مولوی ایسا کرنے کو کہتا? زات برادری کی بنیاد پر دشمنیاں مولوی پیدا کرتا? سیاسی جماعتوں کے مسلح ونگ مولوی کے کہنے پر ہی بنائے گئے? جن پر ہزاروں بے گناہوں کے خون کا الزام ہوتا۔کیوں کسی سیاستدان کا گریبان نہیں پکڑا جاتا! کسی سماجی کارکن سے سوال کیوں نہیں کیا جاتا? کسی این جی او  والے سے کس لئے نہیں پوچھا جاتا۔ سوال کا حدف بنے تو مُلا۔ تنقید کی زد میں آئے تو مولوی، برا بھلا سہے تو بے چارا  دیندار طبقہ۔ یا تو ٹھیکہ دو معاشرے کا مولوی کو ۔یا پھر ملا کا زکر خیر کرو جتنا حق بنتا ہے۔ جتنا سچ ہوتا ہے۔

Flickr